پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل

Saturday / Jan 12 2013

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

دو ہزار تین ء سے دو ہزار آٹھ ء عرصہ پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جس میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں معرکتہ الآرا تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کی بدولت جامعات کا نقشہ ہی تبدیل ہوگیا۔ 2000 ء تک بین الاقوامی جریدوں میں صرف 600تحقیقاتی اشاعت سالانہ شائع ہوتی تھیں۔ 2003ء سے 2008ء تک پاکستان میں تحقیقی پیداوار میں حیرت انگیز ترقی دیکھنے میں آئی اور اس سال2012ء میں بین الاقوامی تحقیقاتی جریدوں میں تقریباََ 8000 تحقیقی مقالات شائع ہوئے ہیں۔ اس حیثیت سے تحقیقی پیداوار میں( آبادی فی ملین کی شرح سے) پاکستان بھارت پر سبقت لے گیا ہے۔ ہماری جامعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 1947ء سے 2002ء کی پچپن سالہ مدت میں ہماری جامعات سے کل3281طلباء پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر سکے جبکہ گزشتہ دس سالوں میں تقریباََ پانچ ہزار طلباء نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ عمدہ پیداوار ہماری جامعات جس تیزی سے اعلیٰ تحقیق کے مرکز بنا رہے ہیں اس بات کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔تا ہم محض Ph.D ڈگری یافتگان میں اضافہ تباہ کن ہوتا اگر معیار کا خیال نہ رکھا جاتا۔ لہذا معیار کی بلندی کے لیے 2004ء میں کئی اقدامات متعارف کیے۔ ان میں سے ایک تو یہ تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یہ لازمی قرار دیا گیا کہ تمام پی ایچ ڈی تھیسس کو زبانی امتحان (Viva Voice)سے پہلے ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی ماہرین کے پاس جانچ کے لیے بھیجنا ضروری ہے تاکہ ”کٹ پیسٹ“ کی ثقافت کو دور کیا جاسکے اور ایک سافٹ ویئر(ithenticate,turinitin) کو تمام جامعات میں متعارف کرایا گیا تا کہ تمام تھیسس کی اچھی طرح جانچ کی جا سکے کہ تحقیقی کاغذات دوسروں کا کام نقل کر کے نہ جمع کرائے جائیں۔ یو ایس ایڈنے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی جس میں پاکستان میں 2003ء اور 2008ء کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں جس تیزی سے ترقی ہوئی ہے اُس کے بارے میں یہ لکھاہے: ”شروع ہی سے HECنے بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے اداروں اور پروگراموں کے معیار کی ہر سطح پر بہتری کرنے کی کوشش کی چاہے اساتذہ، نصاب، طالب علموں کے داخلے، پی ایچ ڈی کی ضروریات، پروموشن ، سازو سامان اور لیبارٹریاں، ICT ، تحقیق، تعلیم اور سروس وغیرہ ہوں۔اگر گزشتہ سالوں کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو معیار کی بہتری پر توجہ مرکوز تھی وہ ایک سمجھدار فیصلہ تھا۔ بہترین اور بین الاقوامی معیار HEC کے وسیع التعداد نافذ کردہ پروگراموں میں واضح طور پر عیاں تھا“۔ معیار کی بہتری کے لیے تمام سرکاری جامعات میں 84 ”معیار کی گارنٹی کے سیل “ قائم کئے گئے۔ ان کا مقصد تعلیم اور تحقیق کے معیار پرکڑی نگرانی رکھنا اور ضرورت پڑنے پر انسدادی اقدمات کرنا شامل تھے۔ ٹینیورٹریک سسٹم کو متعارف کرایا گیا جس میں اساتذہ کی تقرری کنٹریکٹ کی بنیادوں پر ہوتی ہے لیکن تنخواہ کا اسکیل بہت اونچا رکھا جاتا ہے پروفیسرز کی تنخواہ تقریباََ 4لاکھ کے لگ بھگ ہے اورانکم ٹیکس کی شرح صرف 5% ہے۔ ملازمت کے مواقع فراہم کئے گئے تا کہ زیادہ سے زیادہ با صلاحیت نوجوان پاکستانی طلباء تعلیم و تحقیق کو اپنا طرز زندگی بنائیں جامعات میں مقابلے کا رجحان بڑھانے کے لیے 2007ء میں پہلی دفعہ جامعات کی درجہ بندی کرائی گئی۔ اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے معیار کو سخت بنایا گیا تا کہ کام کی عمدگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اساتذہ کے معیارکی مضبوطی کے لئے تقریباََ 11,000 وظائف جاری کئے گئے (اُن 300وظائف کی نسبت جو ان تیس سالوں میں HEC کے قیام سے پہلے دیئے گئے تھے) تا کہ وہ بیرونی ممالک سے تعلیم حاصل کر سکیں ، ساتھ ہی مقامی تحقیق کے پروگرام بھی 2011ء2003ء میں شروع کرائے گئے۔2001ء اور 2002ء میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (UGC) کے تحت سالانہ ترقیاتی فنڈ صرف 0.4ارب تھا جو کہ 2007ء اور 2008ء میں بڑھ کر 15ارب روپے یعنی 35گنا زیادہ ہوگیا اور تحقیقاتی منصوبوں کے لیے 168ارب روپے منظور کئے گئے۔ ان تمام اقدمات نے ہماری جامعات پر بڑے اچھے اثرات ڈالے ہیں اور آج ہماری 6جامعات دنیا کی 500چوٹی کی جامعات میں شامل ہو چکی ہیں۔ HEC کا ایک اور اہم منصوبہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ HECکے قیام سے قبل کسی بھی جامعہ کی لائبریری میں ایک درجن تازہ ترین تحقیقاتی جرنلز بھی نہیں ملتے تھے۔لیکن 2005ء سے دنیا کی بہترین ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کی بدولت تمام سرکاری جامعات کا ہر طالب علم 25,000 بین الاقوامی جرائد اور 220بین الاقوامی پبلشرز کی شائع کردہ 65,000کتب کا متن بالکل مفت حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم اس منظر نامے میں2008ء کے بعد بڑی تیزی سے ایک بھیانک تبدیلی رونما ہوئی جب موجودہ حکومت وجود میں آئی جس کا خدشہ دنیا کے بہترین جریدے ”نیچر“ کے ایک ادارئیے میں پہلے ہی ظاہر کر دیا گیا تھا۔ اس کا اقتباس قارئین کی نظر کررہا ہوں ”… پیپلز پارٹی کو کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ سائنس کے معاملے میں اس کا گزشتہ ریکارڈ پاکستان کی کسی بھی دوسری منتخب حکومت کی نسبت کچھ اچھا نہیں رہا۔1970ء کے اوائل میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو قلیل وسائل تھے انہیں جوہری بم بنانے کیلئے مختص کردیا تھا 1980ء سے 1990ء کے دوران ان کی بیٹی سائنس کی وزارت بغیر کسی وزیر کے چلاتی رہیں۔ مشرف سے پہلے کا دور پاکستان کی سائنسی دنیا کیلئے پتھر کے دور سے کم نہیں تھا۔ نئی حکومت کو یہ تسلیم کرنا پڑیگا قطع نظر کسی بھی قسم کے اختلافات کے جنرل مشرف نے سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط بنیادیں قائم کر دی ہیں جن پر ہم آگے تعمیر کر سکتے ہیں“ 2000ء میں جب USAID نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی تو USAID نے بھی ان خدشات کو محسوس کر لیا تھا جو اعلیٰ تعلیم کو درپیش ہو سکتے ہیں میں ان کی رپورٹ سے ایک اقتباس پیش کررہا ہوں۔ ”پاکستان کے موجودہ حالات ، غیر محفوظ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس ماحول میں اعلیٰ تعلیمی نظام کی مستقلاً بہتری ملکی جمہوریت، سالمیت اور ترقی کے لیے خطرہ ہے“ وہ مزید لکھتے ہیں ” ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اپنی اقتصادی سماجی اور سیاسی ترقی کے لیے اعلیٰ اور معیاری تعلیم پر توجہ دے۔ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی یافتہ مملکت قائم نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو نہ اپنائے اور پاکستان نے اگرچہ وہ مقام حاصل نہیں کیا ہے لیکن اس راہ میں قدم بڑھانے شروع کر دئیے ہیں “۔ 2008 ء میں نئی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی سائنس و ٹیکنالوجی کا بجٹ چھ ارب روپے سے گھٹا کر ایک ارب روپے کر دیا جو کہ 2002ء کے بجٹ کا صرف چھٹا حصہ تھا، اس سے سائنس و ٹیکنالوجی پروگراموں کو شدید جھٹکا پہنچا۔ اسی طرح بجٹ کی کمی نے اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر بڑے برے اثرات مرتب کئے اور پاکستان کے” علم پر مبنی معیشت“ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ اور جامعات اور تحقیقی مراکز کو فنڈز کے لئے منت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ نیشنل کمیشن آف بائیو ٹیکنالوجی اور نیشنل کمیشن برائے نینو ٹیکنالوجی کو بند کر کے پاکستان میں سائنس کا مستقبل مزید تاریک کر دیا۔ حکومت کے اس قدم نے ”نیچر“ کے اُس اداریئے کی بھی تصدیق کر دی جس میں ان خدشات کا پہلے ہی ذکر تھا۔2003ء میں17سے 23سال کی عمر کے صرف 2.6فی صد نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ممکن تھی اوران کی کل تعداد صرف 270,000 تھی۔ لیکن 8برس کی قلیل مدت میں یہی شرح بڑھ کر چار گنا ہوگئی، یعنی تعداد 10 لاکھ ہو گئی (17سے 23 سال کی عمر کے گروپ تقریباََ 8% طلباء), یہ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھانے سے ممکن ہو سکا جن کی تعداد 2000ء میں صرف 59تھی جو آج بڑھ کر 137 ہو گئی ہے۔ یہ حیرت انگیز اضافہ بنیادی طورپر 2003ء تا2008ء حکومت کی مدد ہی سے ممکن ہو سکا، جس نے سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقیاتی بجٹ 6000% اور اعلیٰ تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 3500%تک بڑھا دیا تھا۔ HECان دنوں بڑے خوفناک مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی خود مختاری ختم کر نے کے لیے غیرقانونی طور پر ایک ریٹائرڈ آرمی میجر کو بحیثیت ایگزیکیٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کے حالیہ ہونہار ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کو جبراََ استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ میں نے حکومت کے اس قدم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور 17دسمبر2012ء کو سپریم کورٹ نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور جن صاحب کو HEC کا ایگزیکیٹو ڈائریکٹر مقرر کیا تھا اُن کو ہٹا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے HECحکومتی حملے سے بچ گیا اور اس کی خود مختاری برقرار رہی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت نے اس شاندار ادارے کو دوسرے سرکاری بدعنوان اورحکومت کے ” اطاعت گزار“ شعبے میں منتقل ہونے سے بچا لیا ہے۔ صد افسوس کہ پاکستان کے دشمن خود ہمارے ہی درمیان موجود ہیں۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں