ایک مختلف جمہوری نظام کی ضرورت

Saturday / Aug 26 2017

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

پاکستان میں 1947سے ایک مستحکم جمہوری نظام کے قیام کی کوششیں کی جارہی ہیں، تاہم سیاستدانوں کی وسیع پیمانے پر کرپشن کی وجہ سے نہ صرف حکومتوں کو برطرف کرنا پڑا بلکہ اس کی وجہ سے کئی دفعہ فوج کو مداخلت کرنا پڑی ہے ۔میرے پاس قائد اعظم کی ڈائری کا ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ نوٹ موجود ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ پاکستان کے لئےپارلیمانی نظام جمہوریت سے زیادہ صدارتی نظام جمہوریت مناسب ہوگا کیوں کہ پارلیمانی نظام برطانیہ کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی بہتر نتائج نہیں دے سکا ہے۔ صدارتی نظام جمہوریت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ صدر ملک کے بہترین دماغوں میں سے اپنے وزراءکا انتخاب کر سکتے ہیں جنکاپارلیمنٹ کارکن ہوناضروری نہیں ہوتا۔ یہ افراد بین الاقوامی شہرت کے حامل ہوتے ہیں تاہم ایسے قابل ماہرین عام طورپرالیکشن لڑنا نہیں چاہتے ۔ پارلیمانی نظام جمہوریت میں یہ نقص ہےکہ وزرا کا نتخاب پارلیمنٹ کےاراکین سے ہی کرنا ضروری ہوتا ہے۔پارلیمنٹ میں منتخب ہو کر جو لوگ آتے ہیں ان کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ پارلیمنٹ میں منتخب ہو کر آنے والے افراد میں200 افراد ایسے تھے جنہوں نے اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں۔ یہ حقیقت بھی کبھی منظر عام پر نہ آتی اگر سپریم کورٹ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو ان اسناد کی تصدیق کا حکم نہ دیتی۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے بددیانت افراد کی شناخت میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے اور ان افراد کی دستاویزات کی جانچ کے بغیر ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہےکہ الیکشن کمیشن بھی غیر جانبدارادارہ نہیں ہےکیونکہ خود اس کے پانچ میں سے چار ممبران سیاسی جماعتوں کے نامزد افراد ہوتے ہیں جو کہ فیصلہ سازی کے عمل میں ان جماعتوں کےمفاد کو مقدم رکھتے ہیں ۔پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام کی ناکامی کی ایک اوربڑی وجہ ماضی میںسیاسی جماعتوں کا مقامی حکومتوں کے الیکشن کے ا نعقاد سے پہلوتہی بھی ہے۔ یہ جماعتیں وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں متامل رہی ہیں تا کہ صوبائی حکومتیں فنڈز پر اپنا مکمل کنٹرول رکھیں اور ان کی اپنی مرضی و منشاکے مطابق کرپشن پروان چڑھ سکے۔ یہ فنڈز بعد ازاں بڑے انفرا اسٹرکچر پر مبنی منصوبوں مثلاًبسوں کےمنصوبے،سڑکوں ، اور توانائی پرصرف کئے جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر تعلیم اور صحت جیسے شعبے مکمل طور پر نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک سینئیر وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس کے مطابق حکومت سندھ کے افسران نے لاڑکانہ کے ترقیاتی پروجیکٹ کے نام پر 80ارب روپیہ کا گھپلا کیا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ موجودہ نظام میں تبدیلی حکمراں اشرافیہ کے مفاد میں بالکل نہیں ہے۔کیوں کہ یہ نظام ان کو ان کی مرضی کے مطابق بدعنوانی کی سہولت فراہم کررہا ہے۔ یہی حال نظام انصاف کا ہے، عدالتی نظام بڑی حد تک غیر موثر ہوچکا ہے، بالخصوص نچلی سطح کی عدالتوں میں۔ بعض کرپٹ سیاستدان اس ماحول میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، وہ مختلف منصوبوں پر بڑی بڑی رشوتیں حاصل کرتے ہیں، کیوں کہ قانونی نظام ان کو پکڑنے اور سزا دینے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں بھی چین کی طرح کرپشن پر سزائے موت کی سزا متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ کرپشن کےمقدموں میں سودابازی (Plea Bargain)پر مکمل پابندی کی ضرورت ہے، کیوں کہ کرپٹ افراد کے بچاؤ کے لئے کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ نیب کی جانب سے کی جانے والی سودےبازی نے کرپشن کو تیزی سے بڑھایا ہے، اس کے ساتھ ہی بددیانت افراد کو یہ موقع بھی ملتا ہے کہ وہ چوری شدہ رقم کا معمولی سا حصہ واپس دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ نیب کے بعض افسران کو بھی کچھ حصہ اپنی جیب میں ڈالنے کا موقع مل جاتا ہےجمہوریت کی روح دراصل فنڈز اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرکے عوام کو با اختیار بنانا ہے۔مثال کے طور پر ترکی جہاں کی آبادی 70 ملین یعنی پاکستان کی آبادی کی ایک تہائی ہے وہاں 1394 میونسپل کمیٹیاں ہیں جن کی سربراہی مئیرز کرتے ہیں، ان مئیرزکوکثیرفنڈزفراہم کئے جاتے ہیں تاکہ اسکولوں، سڑکوں ، سیوریج، وغیرہ کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔ پاکستان کو بھی ترکی کے ماڈل کو اختیار کرنا چاہئے، تاہم میونسپلٹیز کی تقسیم لسانیت کی بنیاد پر نہ ہوبلکہ مختلف ثقافتوں کا ملاپ عمل میں آئے، اور تقریباًچارہزار میونسپل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ جمہوریت کو نچلی سطح تک مضبوط کیا جاسکے۔ ہماری حکومتوں کو میڈیم اور ہائی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو برآمد بھی کیا جاسکے، جیسا کہ آج کی نئی دنیا میں ہو رہا ہے۔ قدرتی وسائل اپنی اہمیت کھو رہے ہیں ۔ سی پیک سے حاصل ہونے والے مواقع کو صنعتی علاقوں کی تیاری کے لئےاستعمال کیا جانا چاہئےاوراس سلسلے میں چینی پرائیؤٹ سیکٹر کو15 سال کے لئے ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ وہ مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مختلف اعلی ٹیکنالوجی میدانوں میں صنعتی پروجیکٹ شروع کرسکیں۔اس کے ساتھ انہی زون میں اعلیٰ معیار کے ٹیکنکل ٹریننگ کے ادارے بھی قائم کئےجائیں تاکہ ان صنعتی پروجیکٹ میں درکار افرادی قوت کو مقامی افراد سے ہی پورا کیا جاسکے۔ جمہوریت اسی صورت میں صحیح طریقے پر کام کرسکتی ہے جب عوام تعلیم یافتہ ہوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور کے درمیان فرق کو سمجھ سکیں ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت پر جاگیر دار طبقے کا کنٹرول رہا ہے جنہوں نے تعلیم کو بڑھنے نہیں دیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کی نصف آبادی لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہے۔بار بار الیکشن کے ا نعقاد سے وہی بعض کرپٹ لوگ پارلیمنٹ کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ وزرا کی مکمل اسکریننگ کے بعد سات سے دس سال کے عرصے کے لئے ٹیکنو کریٹس کی حکوت قائم کی جائے، تاکہ معاملات کو درست سمت میں لایا جاسکے اور تعلیم ، صحت ، ٹیکنالوجی اور جدت کو ترجیحات میں شامل کیا جائےتاکہ پاکستان علمی معیشت کی طرف منتقل ہو سکے۔اس وقت امید کی کرن تمام سیاسی جماعتوں میں موجود چندایماندارروشن خیال سیاستدان ہیں جواپنی سیاسی جماعت کے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو مقدم رکھ سکیں ہیں ۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان ہیں ۔ان سب کی مددسےآئین کو واضح طور پر صدارتی نظام جمہوریت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے (Proportion Representation)جس کے ذریعے متناسب نمائندگی سامنے آسکے اور پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعدادکا تعین ان کو ملنے والے ووٹوں کی شرح سے کیا جائے۔یہ صورت حال اس وقت نہیں ہے۔صدارتی نظام جمہوریت اس وقت دنیا کے نوے ممالک میں رائج ہے، اور ہمیں بھی اس کو اختیار کرنا چاہئے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے، ہمارے پاس ایک نئی شروعات کا موقع ہے جس کو دور اندیش سیاست دانوں جن کو پارٹی مفادات سے زیادہ ملک کا مفاد عزیز ہو ، سپریم کورٹ اور مسلح افواج کی مدد سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے آئین میں ضروری ترامیم کی فوری ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان کے عوام کا مفاد سب سے اہم ہے اور آئین پاکستان میں عوام کے مفاد میں ضروری تبدیلی کی جانی چاہئے،اس بات کو سپریم کورٹ کے معزز ججز سے زیادہ کون جان سکتا ہے جن کے کندھوں پر پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں