برقی آلات اپنی مرمت خود کرلیں گے

Monday / May 23 2022

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

ٹیکنالوجی کے میں طول و عرض میں بڑی تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے طرح طرح کی دلچسپ اور حیران کن ایجادات منظر عام پر آرہی ہیں۔ ان میں سے چند کے بارے میں ذیل میں بتایا جا رہا ہے۔ ریموٹ باڈی اسکینر پاکستان میں حالیہ سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ایسی ٹیکنالوجی کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے، جس کی مدد سے جسم میں چھپے ہوئے اسلحے کو فاصلے سے ہی دیکھ لیا جائے۔ اس کی مدد سے مجرموں کے لباس کے اندر چھپائے گئے ہتھیاروں سے بچائو ممکن ہوجائے گا،تاہم ابھی تک ایسی کوئی ٹیکنالوجی وجود میں نہیں آئی ہے۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس مشترکہ طور پر ایک منصوبے پر کام کررہے ہیں ،جس کے تحت ایسا آلہ تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو دور ہی سے ہتھیاروںکی موجودگی کو شناخت کرلے۔ یہ پورٹیبل اسکینرجسم سے نکلنے والی انفراریڈ شعاعوں کو استعمال کرتا ہے۔ ان شعاعوں کی شبیہ کا اسکینر سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر جسم پر کوئی ہتھیار ہے تو دھات کی وجہ سے انفرا ریڈ شعاعوں کا راستہ رک جاتا ہے اور ہتھیاروں کا ہیولا دیکھا جاسکتا ہے۔ اس آلہ کی رینج میں توسیع کی کوشش کی جارہی ہے،تا کہ یہ 28 فیٹ کے فاصلے سے ہتھیار کو شناخت کرلے ۔ اشاروں کی زبان کا پورٹیبل مترجم گونگے افراد ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں بات کرسکتے ہیں، تاہم عام لوگ کو گونگے لوگوں کے اشارے سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے، اس ضمن میں یو نیورسٹی آف ہوسٹن کے انجینئرنگ ٹیکنالوجی اینڈ انڈسٹریل ڈیزائن کے طلباء کے ایک گروپ نے مترجم کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے ،جس کو اس کے کام کے حوالے سے My Voice کا نام دیا گیا ہے ۔یہ اشاروں کی شناخت کرکے اس کو آواز میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جانے کے قابل آلہ ہے، جس میں مائیکرو فون، اسپیکر، سائونڈ بورڈ، کیمرہ اور مانیٹر شامل ہے۔ یہ آلہ ہاتھوں کی حرکت کو پڑھتا ہے اور پھر پیغام کو صوتی انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ اس کے الٹ کام بھی انجام دیتا ہے۔ یعنی پیغام کو سن کر اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ گونگا فرد اس کو سمجھ لے۔ یہ کام ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ یہ آلہ اس شعبہ میں پہلے سے موجود Accele Gloveکو پیچھے چھوڑ دے گا جو کہ فی الحال صرف یک طرفہ کام انجام دیتا ہے۔ یعنی Deaf to Hearing مترجم کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ اس آلے کو دستانے کی طرح لیا جائے گا اور یہ ہاتھوں کی حرکت کو تحریری یا صوتی الفاظ میں بیان کردے گا۔ 3D پرنٹرز… گھریلو اشیاء اور ہڈیوں کی تیاری کے لیے اب3Dپرنٹر کے ذریعے ہڈیوں جیسا مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔ 3D بائیوپرنٹرز کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے اعضاء کی تبدیلی کی جراحی میں سرجن کی ضرورت کے مطابق اعضاء کی تیاری کے حوالے سے نئے امکانات روشن ہورہے ہیں۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایسا تھری ڈی بائیو پرنٹر تیار کیا ہے جو ایک پلاسٹک بائنڈر کو پائوڈر کے اوپر چھڑکتا ہے۔ یہ عمل انسانی بال سے بھی پتلی تہہ کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ ہڈی جیسی یہ شاخیں اصل ہڈی کے ساتھ جوڑا بناسکتی ہیں او رپھر نمو کے عوامل کی مناسب فراہمی سے یہ ایک Scaffoldکی طرح کام کرتی ہیں،جس پر نئی ہڈی کی ساخت اس مادّے کے تحلیل ہونے سے پہلے ہی نشوونما پانا شروع کردیتی ہے۔ اسی طریقے کو MIT کے محققین ،ٹخنوں کی ہڈیوں اور نرم ہڈیوں Cartilageکی نشوونما کو تیز کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ 3D پرنٹنگ ٹیکنالوجی ادویات کے میدان میں بے شمار اطلاقات کی حامل ہے۔ فضا کو صاف کرنے والے روبوٹ عام طور پر مغربی ممالک میں گھروں اور دفاتر میں Air Purifiersکا استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ فضا میں موجود گرد کے ذرّات کو صاف کیا جائے اور سانس لینے کے لیے صاف ستھری ہوا میسر ہو۔ یہ دمہ کے مریضوں اور فضا میں موجود مختلف قسم کیimpurities سے الرجی رکھنے والے افراد کے لیے خاص طور پر کارآمد ہے، تاہم ان Air purifierکو کمرے میں کسی جگہ پر چپکا دیا جاتا ہے اور یہ ایک خاص حصے تک ہی موثر ہوتا ہے۔ اب جنوبی کوریا کی ایک کمپنی نے Air purifiers کے حوالے سے بالکل اچھوتا خیال پیش کیا ہے۔ اب یہ کام روبوٹ سر انجام دیں گے وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گندی ہوا کو تلاش کریں گے اور وہاں کی فضا کو صاف کردیں گے۔ یہ روبوٹ (Rydis 800) پہیوں کی مدد سے چلتا ہے، جس میں نصب سینسرز اس کو راستے میں آنے والی اشیاء سے ٹکرائو سے محفوظ رکھتے ہیں اور اس طرح وہ عمارت کے کونوں کھدروں میں جاکر اپنا کام کرلیتا ہے۔ جب روبوٹ استعمال میں نہیں ہوتا تو اس کو چارجنگ اسٹیشن پر لگادیا جاتا ہے جہاں وہ حسب ضرورت استعمال کے لیے تیار رہتا ہے۔ خود مرمت پذیر ہونے والی برقی اشیا برقی آلات و سامان میں تاروں کے ٹوٹنے سے الیکٹرونک سرکٹ کا ٹوٹنا بہت ہی عام مسئلہ ہے۔ اب اس مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے خودکار مرمت پذیر Self Healingبرقی اشیاء جلد ہی مارکیٹ میں متعارف کروائی جائیں گی۔ اس میں برقی اشیاء میں استعمال ہونے والے مواد پر مائیکرو کیپسول کی تہہ چڑھا دی جاتی ہے اور جیسے ہی شگاف پڑتا ہے۔ یہ کیپسول پھٹ جاتا ہے اور اس میں بند مواد ہوا میں آنے پر سخت ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو اس سے قبل کنکریٹ پولیمرز میں استعمال کیا جارہا تھا۔ اب یونیورسٹی آف Illionsکے محققین نے اس کو برقی آلات میں استعمال کیا ہے۔ جیسے ہی متعلقہ شے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی اس کی مرمت کا کام فوری طور پرشروع ہوجائے گا اور ٹوٹے ہوئے سرکٹ کی موصلیت Conductivity کا عمل جاری رہے گا۔اس نظام کے بہت سارے فوائد ہیں۔ اس کے ذریعے ٹوٹ پھوٹ کی جگہ کو تلاش کرنے میں ضائع ہونے والے طویل وقت کی بچت ہوگی۔ مثلاً ہوائی جہاز میں میلوں طویل برقی وائرنگ ہوتی ہے۔ چپس میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ بھی فوراً درست ہوجائے گی، جس سے کافی بچت ہوگی۔ اسی طرح سے برقی آلات میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کو تلاش کرنے میں جو وقت اور رقم درکار ہوتی ہے۔ اس میں بھی کافی کمی آئے گی۔ حساس روبوٹک انگلیاں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے Viterbiاسکول آف انجینئرنگ کے سائنس دانوں نے ایک عجیب و غریب ٹیکنالوجی تیار کی ہے، یہ ٹیکنالوجی انسانی انگلیوں کے چھونے کی حس کی حامل ہے۔ اس نے اپنی حس کے ذریعے مختلف مواد کی شناخت کے حوالے سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بائیوٹیک سینسرز انگلیوں جیسے یونٹ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کی نرم لچکدار جلد مائع سے بھری ہوتی ہے۔ اس جلد میں انسانی انگلیوں جیسے ابھرے ہوئے نمونے بنائے گئے ہیں جو کہ انگلیوں کو قدرتی حساسیت دیتے ہیں جب ان روبوٹک انگلیوں کو کسی سطح پرحرکت دی جاتی ہے تو یہ مختلف طے شدہ طریقوں کے مطابق مرتعش ہوتی ہے۔ اس ارتعاش کا ادراک ایک مائیکرو فون سے کیا جاتا ہے اور اس کی شناخت کی جاتی ہے۔ روبوٹک انگلیاں کسی سطح کو چھوتے ہوئے Exploratoryحرکت کاستعمال کرتی ہیں، یہ حرکت بالکل اسی طرح ہوتی ہے، جیسے ہم اپنی انگلیوں کو حرکت دیتے ہیں اور پھر اس حرکت کے ذریعے مختلف اشیاء کو شناخت کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا نے حساس دبائو کی حامل مصنوعی جلد تیار کی تھی۔ یہ جلد نیم موصل نینووائرز کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔ بعدازاں اس مواد پرایک چپکنے والی پولی مائڈ فلم چڑھا دی گئی، تاکہ E-Skin کا بنیادی مواد تیار کیا جاسکے۔ اس کے بعد اس مواد کے اوپر دباؤ کے لیے حساس ربر کا غلاف چڑھایا گیا۔ چناںچہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ جب آپ کسی روبوٹ سے ہاتھ ملائیں تو اس کی انگلیاں آپ کی انگلیوں کی طرح حساس ہوں۔ پیچھے پیچھے چلنے والی شاپنگ کارٹ بعض اوقات مال یا مارٹ میں خریداری کرتے وقت شاپنگ کارٹ کو چلانے میں بیزاریت ہوجاتی ہے ،اس سلسلے میں اب ایسے ذہین شاپنگ کارٹ تیار کیے گیے ہیں جو آپ کے پیچھے پیچھے چلیں گی۔ اس طرح آپ اپنے دونوں ہاتھ خالی رکھ کر اطمینان سے شاپنگ کرسکتے ہیں۔ سائنس کی حیران کن دنیا میں سب کچھ ممکن ہے۔ اب ایسی شاپنگ کارٹ ایجاد کرلی ہے جو آپ کی خریدی ہوئی اشیاء کی شناخت کرے گی اور پھر اس کا موازنہ آپ کی خریداری کی فہرست سے کرے گی اور آپ کو یاددلائے گی کہ فلاں چیز آپ خریدنا بھول گئے ہیں۔ دوسری طرف مارکیٹ میں وہ فرمانبرداری سے آپ کے پیچھے پیچھے چلے گی۔ اس کے علاوہ وہ راستے میں آنے والی اشیاء کے ٹکرائو سے خود کو بچالے گی۔ یہ ایجاد امریکا میں قائم Moon Lab میں کی گئی ہے۔ ٹوکری کے اندر آواز کو شناخت کرنے والا نظام بھی نصب ہے، جس کی مدد سے خریدار یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس کی مطلوبہ شے کہاں پر موجود ہے اور پھر وہ خریدار کو یہ بتادے گی کہ اس کی خریداری کی فہرست میں سے کون کون سی اشیاء خریدی جاچکی ہے۔ اس ٹوکری میں Kinetic سینسر نصب ہے۔ اس سینسرکو ونڈوز 8ٹیبلٹ سے منسلک کردیا گیا ہے، جس کی مدد سے یہ ٹوکری تمام کام انجام دیتی ہے۔ اگر خریدار غلطی سے غلط چیز اٹھالے تو یہ ٹوکری اس کی غلطی کی نشاندہی بھی کردے گی۔ امریکا کے کئی سپر اسٹورز پر اس ٹوکری کی آزمائش جاری ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب شاپنگ کارٹ آپ کے پیچھے پیچھے چلے گی۔ فعال پڑھائی Active Reading کے لیے سافٹ وئیر امتحان کے قریب آتے ہی طلباء ایسے طریقے تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں، جس کی مدد سے وہ پڑھے جانے والے مضامین کو یاد رکھ سکیں۔ یہ عمل Active Reading کہلاتا ہے۔ Active Reading میں پڑھے جانے والے پیراگراف کو نشان زد کرنا، صفحے کے کناروں پر مختصر نوٹ تحریر کرنا، اہم معلومات کو یکجا کرنا، Flow چارٹ یا ڈائی گرام بنانا یا پھر زور سے پڑھنا شامل ہے۔ ذہن معلومات کو اس وقت زیادہ بہترانداز سے محفوظ کرلیتا ہے۔ جب یاد کیے جانے والے نکات کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہو۔ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک خاص سافٹ وئیر تیار کیا ہے ،جس کو Liquid Text کا نام دیا گیا ہے یہ سافٹ وئیر Active Reading میں معاونت کرتا ہے۔ یہ سافٹ وئیر ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں تحریری مواد ایک جانب ہوتا ہے جب صفحے کا دوسرا حصہ خالی ہوتا ہو۔ اس کو استعمال کرنے والا فرد اپنی انگلی کی پورا ستعمال کرتے ہوئے نکات کو نشان زد کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اہم نکات کو Dragکرکے دوسری جگہ پر لے جایا جاسکتا ہے۔ (یہ سافٹ وئیر اس سال کے آخر تک بازار میں دستیاب ہوگا) باتیں کرنے والی کاریں...تصادم سے بچائو ہر سال بڑی تعداد میں دھند اور کہر کی موسم میں راستہ نظر آنے والی وجہ سے گاڑیوں کے ٹکرائو کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اٹلی میں واقع bologna یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ان واقعات کو کم کرنے کا حل تلاش کرلیا ہے ۔ انہوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے ،جس کی مدد سے کاریں کسی حادثات کی صورت میں پیچھے آنے والی گاڑیوں کو پیغام دیں سکیں گی۔ یہ وارننگ سسٹم کار میں نصب خاص Motion Sensors کی وجہ سے حرکت میں آئے گا جو حادثےکی صورت میں اس کی شناخت کرلیں گے۔ ایک نجی کمپنی لاس اینجلس میں اس نظام کا سڑکوں پر جائزہ لے رہی ہے۔ یورپ میں ذہین گاڑیوں Intellegent Car کے پروگرام کے آغاز کا مقصد جدید وائرلیس ٹیکنالوجی کی مدد سے سفر کو محفوظ بناتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یورپ میں وقت کا 24 فی صد حصہ ٹریفک کے اژدھام میں ضائع ہوتا ہے۔ ننھے روبوٹس… مستقبل کے سپاہی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مستقبل کی فوجیں ذہین روبوٹس پر مشتمل ہوں گی جن کو ہزاروں میل کے فاصلے سے کنٹرول کیا جائے گا۔ پاکستان کے شمالی حصوں میں امریکا کے متواتر ڈرون حملوں میں ڈرون کو کس طرح کنٹرول کرنا اور استعمال کرنا ہے اور تباہ کن اثرات مرتب کرنا ہے کا مسلسل مظاہرہ جاری ہے، تاہم ننھے ریموٹ کنٹرول Quadrotor Robots تیار کیے گئے ہیں جو کہ انتہائی پیچیدہ راستے بناتے ہوئے اڑ سکتے ہیں۔ یہ روبوٹس جدید جنگوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے۔ یونیورسٹی آف پینی سلوانیہ کی Automation, Sensing and Perception (GRASP) لیب نے حال میں اس چیز کا مظاہرہ کیا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے روبوٹس کس طرح غول میں اُڑتے ہوئے ایک دوسرے سے باہم مل کر طے شدہ ہدف حاصل کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سائنسی افسانے حقیقت میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ان روبوٹس کو Quadrotor Robotsکا نام دیا گیا ہے ،کیوں کہ ان میں چار Propeller نصب ہیں۔ جن کی مدد سے ان کی پرواز کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ ان میں اعصابی گیسوں کے تھیلے ہوتے ہیں جن کو دشمن فوجیوں کوبے ہوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک وقت میں سیکڑوں مقامات پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ دھماکہ خیز مواد گرا سکتے ہیں۔ اس طرح دشمن کی صفوں میں وسیع تباہی اور انتشار پیدا کرسکتے ہیں۔ اڑنے والی روبوٹک مشین کسی شے کے گرد گردش کرسکتی ہے اور انتہائی ذہانت کے ساتھ ایک دوسرے سے رابطہ کرسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ Automated Swarm Behavior کا مظاہرہ بھی کرسکتی ہیں۔ ان میں نصب چھوٹے کیمرے دشمن کی جاسوسی اور اپنی تنصیبات کی نگہبانی کا فریضہ انجام دینے کے لیے بھی کارآمد ہیں۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں