خوابوں کے جزیرے پہ رہنے والے

Sunday / Aug 14 2022

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

آج کی دنیا میں محروم اور مراعات یافتہ ممالک کا فرق بہت نمایاں ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ بیشتر قوم جن کے پاس وسیع فطری و انسانی وسائل ہیں۔ غریب ترین اقوام میں شمار ہوتی ہیں۔ جب کہ بعض ممالک مثلاً جاپان فطری وسائل نہ ہونے کے باوجود عالمی معیشت پر سب سے زیادہ اپنا اختیار رکھتےہیں۔ آج کی دنیا میں کسی ملک کی ترقی کا انحصار صرف اس کے فطری وسائل پر نہیں ہوتا بلکہ تربیت یافتہ افرادی ِ قوت کے معیار اور موزوں ترقیاتی پالیسیوں پر ہوتا ہے، تاکہ اس کے سائنس دانوں اور تیکنیکی ماہرین کو اقتصادی تبدیلیوں کے لیےاستعمال کیا جا سکے ،چنانچہ کسی ملک کے ترقیاتی پروگرام کی بنیاد سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت اور زراعت و صنعت میں مہارت کے اطلاق پر ہے۔ اقتصادی خوشحالی میں انسانی وسائل کی ترقی کا جو اہم کردار ہوتا ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں اس کا سخت فقدان ہے۔ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو دیکھا جائے تو وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں میں سب سے نچلی ترجیحات پر ہیں۔ ہمارے یہاں سائنسی علم حاصل کرنے اور آگے بڑھانے کے سلسلے میں کوئی قومی سطح کا احساس نہیں ہے۔ ہم میں اجتماعی مفادات کا شعور بھی کم ہے۔ ہم کو یہ بھی معلوم نہیں قومی مسائل کو حل کرنے کے لئے سائنس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان میں سائنس کا شعبہ ممتاز اہم اور فعال سائنس دانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے جیسا کہ ترقی یافتہ دنیا میں موجود ہے۔ پاکستان نے گزشتہ 75 سالوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو نمایاں ترقی کی ہےوہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا میں یہ واحد ملک ہے، جس کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے۔پاکستان نے سائنس میں ایک نوبل انعام یافتہ (پروفیسر عبدالسلام، 1979) او ر فیلو آف رائل سوسائٹی (لندن) کے پانچ فیلو (پروفیسر عبدالسلام، پروفیسر سلیم الزمان صدیقی، پروفیسر ایم اختر اور پروفیسر ذوالفقار بُھٹہ) پیدا کیے ہیں۔ پاکستان جوہری توانائی کمیشن (Pakistan Atomic Energy Commission ) نے 11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت کے جوہری تجربات کے جواب میں چاغی کی پہاڑیوں پر بہ یک وقت 5 ٹیسٹ کیے، اس طرح دنیا کی 7ویں ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے 28 مئی 1998 کو نیوکلیئر کلب میں شمولیت اختیار کی۔ ڈاکٹر اے کیو خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر آئی۔ایچ ۔عثمانی نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے چین کے قریبی تعاون سے سیٹلائٹس کی تیاری میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سپارکو (SUPARCO)نے 13 اگست 2011 کو اپنا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ جیو سنکرونس سیٹلائٹ ( Geosynchronous Satellite) لانچ کیا۔1947 ء سے اب تک ادارتی ڈھانچوں کی تشکیل اور سائنسی پالیسیوں کا چار مرتبہ جائزہ لیا جا چکا ہے۔ آزادی کے دو برس بعد حکومت نے غذاا ور زراعت تحقیقی کونسل قائم کیا۔1953 ء میں اس ڈپارٹمنٹ کو پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق میں تبدیل کر دیا گیا ۔اسی دور میں پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز بھی بنائی گئی ۔پاکستان جوہری توانائی کونسل بھی قائم ہوئی جو بعد میں پاکستان جوہری توانائی کمیشن میں تبدیل ہو گئی۔ سائنسی پالیسی کو مربوط بنانے کی پہلی کوشش 1959ء میں ہوئی جب قومی سائنس و ٹیکنالوجی کمیشن قائم ہوا ۔اس دوران سائنس اور ٹیکنالوجی کے ضمن میں اہم کام ہوئے۔پاکستان کے بعض اہم ترین سائنس دانوں کو جمع کیا گیا۔ ان کے سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام تھے ۔ کمیشن میں ممتاز کیمیادان پروفیسر سلیم الزماں صدیقی بھی شامل تھے۔1972ء میں نیشنل سائنس کونسل کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی وزارت کے ماتحت کردیا گیا ۔ جب کہ بجٹ کا تھوڑا سا حصہ تحقیقی اداروں کو دیا گیا۔1983 ء میں سائنسی ادارہ قومی کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی قائم ہوا ۔ اس کا پہلا اجلاس مارچ 1989ء میں منعقد ہوا۔ اس میں آٹھواں پنچ سالہ منصوبہ بھی جاری ہوا ۔ 1993ء میں آٹھویں منصوبے کے حصے کے طور پر نیشنل ٹیکنالوجی پالیسی (این ٹی پی) کا اعلان کیا گیا جو جنوب مشرقی ایشیا کی صنعتی ترقی کی طرف گامزن ممالک (جنہیں ایشین ٹائیگرز کہا جاتا ہے) کے نقش ِ قدم پر چلنے کی پاکستان کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش تھی۔ پالیسی پر عمل درآمد کے لیے پانچ سال کے دوران 500ارب روپے کے اخراجات کا منصوبہ بنا۔ اس کا مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کو پاکستان کی طرف راغب کرنا تھا۔ پاکستان میں سائنسی اور تیکنیکی کارگاہیں۔ مالیات کے شدید فقدان، افسوسناک بدانتظامی اور بے معنی اہداف کی عدم موجودگی کا شکار ہیں۔جب ہم پاکستان میں سائنس پر ہونے والے اخراجات کا مغربی ممالک کے سائنس بجٹ سے موزانہ کرتے ہیں تو بڑی مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ 1947ء سے اب تک گزشتہ 75برسوں میں پاکستانی قیادت نے بجٹ کی ترجیحات میں سائنس کو کتنے نچلے درجے پر رکھا ہے۔سرکاری مالیات کی بدانتظامی کے باعث یہ مسئلہ اور سنگین ہوجاتا ہے ،کیوںکہ بڑا حصہ نچلی ترجیحات کے شعبوں میں خرچ ہوتا ہے یا ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو جاتاہے۔ پاکستان میں بہت سے تحقیقی ادارے حقیقی سائنسی تحقیق و ترقی کی کوششوں میں مصروف نہیں ہے بلکہ پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔یعنی معلوم ٹیکنالوجی کو منتقل کررہے ہیں کسی حد تک ترقی پذیر ملکوں میں یہ ضروری ہو سکتا ہے لیکن مغرب سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے اداروں کو سائنس کی سرحدیں وسیع تر کرنے اور نئی ٹیکنالوجی بنانے کی سعی کرنی چاہئے، جس کے لیے سائنسی افرادی قوت کی اعلیٰ سطح اور بہترین انفرااسٹرکچر لازم ہوگا، اس قسم کی کوشش کے ذریعے ہم برآمدی معیارکی ٹیکنالوجی بنا سکتے ہیں۔ جب کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروجیکٹس کی صورت میں متبادل درآمد شدہ اشیاء بھی موجود ہوتی ہیں،مگر ان دونوں قسم کے پروگراموں میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں افسوسناک طرزِ فکر یہ رہی ہے کہ بنیادی سائنسی تحقیق غیر پیداواری ہوتی ہے اور اس میں قومی وسائل کا زیاں ہوتا ہے۔ حالاں کہ باربار یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بیشتر بڑی سائنسی دریافتیں جنہوں نے آج ہماری زندگی بدل دی ہے تقریباً مکمل طور پر اعلیٰ پائے کی تحقیق کا نتیجہ ہیں اور اس بارے میں ایک متوازن طرزِ فکر اختیار کرنا ضروری ہے۔پاکستان کی پہلی آئی ٹی پالیسی اور نفاذ کی حکمت عملی اگست 2000 میں منظور کی گئی ۔ 2002-2000 کے دوران آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے نےپاکستان میں تیز رفتار ترقی کی ، پورے ملک میں انٹرنیٹ کی توسیع اور بینڈوتھ کی قیمتوں میں زبردست کمی کی گئی۔ آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچے اور بینڈوتھ کی قیمتوں میں یہ تبدیلیاں سائنس کی تعلیم کے لیے انمول ثابت ہوئیں۔ پاکستان ایجوکیشنل ریسرچ نیٹ ورک (Pakistan Educational Research Network, PERN) 2004 میں قائم کیا گیا تھا۔ صرف 4 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک سیٹلائٹ (Paksat 1) )خلا میں رکھا گیا۔ سائنس میں سرمایہ کاری میں اضافہ بھی 2002-2008 کے دوران ہوا۔ جی ڈی پی تقریباً 0.2 فی صد سے بڑھ کر تقریباً 0.86 فی صد تک پہنچ گئی، لیکن اس کے بعد کے 15 سالوں میں یہ جی ڈی پی گھٹ کر تقریباً 0.26 فی صد رہ گئی، جو کہ ایک سنگین تشویش کی بات ہے۔ پاکستان 2000 میں بھارت سے 400 فی صدپیچھے تھا لیکن 2019 تک بھارت کو پیچھے چھوڑ گیا، یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ اس جدید دور میں ٹیکنالوجی کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مخلوط تعلیم (Blended Education): ورچوئل جامعہ ، لاہور میں 6 ارب روپے کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جو ہماری جا معات میں مرکب تعلیم کا نظام متعارف کرائے گا۔ اس کے نتیجے میں ہماری جامعات کے طلباء نہ صرف اپنے اساتذہ سے سیکھیں گے بلکہ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز (Massive Open Online Courses, MOOCS) کا استعمال کرتے ہوئے وہ ایم آئی ٹی (MIT) ، اسٹینفورڈ (Stanford) ، ہارورڈ(Harvard ) اور دیگر اعلٰی جامعات میں دستیاب لیکچروں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی معیار میں کافی بہتری آئے گی۔پاکستان میں محققین کودرپیش ایک بڑامسئلہ جدیدترین سائنسی آ لات تک رسائی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ’’پبلک، پرائیویٹ اور اسٹریٹجک سیکٹر ریسرچ انسٹی ٹیوشن آف پاکستان کوسائنسی آلات تک رسائی کی فراہمی‘‘ کےعنوان سے ایک پروجیکٹ کی منظوری دی گئی ہے،جس کی لاگت300 ملین روپے ہے جوپاکستان سائنس فاؤنڈیشن کےذریعہ ادا کی جائیگی ۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصدیہ ہوگاکہ وہ ملک بھرمیں ایک ایسےنظام کو فروغ دیں جوان تحقیقی مراکز اور جامعات کو سہولیات فراہم کریں۔ جینیاتی انجینئرنگ اب زراعت کوتبدیل کررہی ہے۔ پروجیکٹ برائےحیاتیاتی ایجنٹوں برائے غذائیت، بائیوکیمیکلز اور علاج کےمقاصد کےعنوان سے ایک پروجیکٹ۔ زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد (یو اے ایف) کےاشتراک سےپی سی ایس آئی آرکےلئے 1.8 بلین کی منظوری دی گئی ہے۔ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی عزم ہو اور سائنس اور ٹیکنالوجی کو قدرتی اشیاء حاصل کرنے اور استعمال کرنے کا وہ جماعتی باشعور ارادہ موجود ہو، قیادت کی اعلیٰ ترین سطح پر اس بات کو قبول کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نہ صرف قومی ترقی کے لیے لازمی ہے بلکہ مقابلے کے عالمی ماحول میں بھی ہماری بقاء کے لیےضروری ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں مستحکم ترقی بنیادی انفرا اسٹرکچر کا تقاضا کرتی ہے، جس میں وسائل کی ترقی بھی شامل ہے۔ سائنس کی تعلیم میں ہر سطح پر زیادہ سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔ انفرا اسٹرکچر سازی کا دوسرا حصہ جامعات کے آر اینڈ ڈی اداروں کو ضروری سہولتوں کی فراہمی ہے، تاکہ وہ ہماری بدلتی ضروریات کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی میں بامقصد کام انجام دے سکیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے مدد لیتے ہوئے اقتصادی ترقی کا پروگرام بنایا جائے۔ سرکاری آر اینڈ ڈی اداروں، جامعات اور انڈسٹری کے درمیان تعاون ہو، جس کے بغیر مستحکم ترقی ممکن نہیں۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ایک اہم قوم کی حیثیت سے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے کلچر کو اس طرح فروغ دینا چاہئے کہ یہ ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ زراعت، صنعت اور صحت جیسے شعبوں میں قومی ترقیاتی منصوبوں سے تعلیمی پروگراموں کو ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ ہماری تعلیم یافتہ افرادی قوت کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو سکے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر الیکٹرونکس ریفریجریشن، کار پینٹری اور موٹر میکنیکس جیسے ووکیشنل اور ٹیکنیکل شعبوں کو لازمی قراردیا جائے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے کلیدی شعبوں میں بہت سے اعلیٰ سطح کے سائنسی تحقیق و ترقی کے پوسٹ گریجویٹ مراکز بھی قائم کئے جانے چاہئیں۔حکومت کے سامنے ایک بڑ امقصد یہ ہونا چاہئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اطلاق کے ذریعے خودانحصاری حاصل کرنے کے طریقے اور راہیں تلاش کی جائیں، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ درآمدات کم اور برآمدات کو فروغ دینے کے پروگرام وضع کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جائیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنس کے نئے شعبوں کی بنیادیں چار مرکزی شعبوں (طبیعات، کیمیا، ریاضی اور حیاتیات) پر مضبوطی سے قائم ہیں اور اپنی یونیورسٹیوں میں ان میدانوں میں مستحکم ڈپارٹمنٹس (جو مناسب اہل افرادی قوت پیدا کریں) کے بغیر دوسرے میدان انہی مرکزی مضامین سے نکلے ہیں، اس نکتے کو سمجھنے کے لیے برطانیہ کی مثال لی جاسکتی ہے۔ برطانیہ میں سائنس کو مالیات فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے اپنا 88.5فی صد فنڈ چار مرکزی شعبوں میں خرچ کرتا ہے۔ (حیاتیات29فی صد، کیمیا 29.7فی صد، طبیعات 23.3فی صد اور ریاضی 6.5فی صد ) صرف 11.5فی صد رقم مستقبل سے متعلق شعبوں جیسے نیوٹران بیم ریسرچ، لیزر ٹیکنالوجی وغیرہ پر خرچ ہوتی ہے۔ ہر جامعہ کو اپنے سالانہ بجٹ کا کم ازکم 50فی صد تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں پرخرچ کرنے کا پابند کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے بجٹ میں مناسب اضافہ کیا جائے۔ تعلیمی سائنسی اداروں کو جو مسائل درپیش ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ سائنسی آلات کی مناسب دیکھ بھال کے فقدان کا ہے۔ تجویز کیا جاتا ہے کہ 15؍لاکھ امریکی ڈالر سے ایک مینٹی نینس فنڈ قائم کیا جائے، جس کا انتظام ایک کمیٹی کے ہاتھ میں ہو جو اداروں میں نصب شدہ آلات کے اسپیئر پارٹس اور ایکسے سریز (Accessories) کی فراہمی اور جن غیرملکی کمپنیوں سے آلات منگوائے گئے تھے۔نئے مراکز بناکر وسائل ضائع کرنے کے بجائے یہ بہتر ہوگا کہ ان موجودہ مراکز کو اَپ گریڈ کیا جائے، جنہوں نے قیام کے بعد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تجویز کیا جاتا ہے کہ ہر اسلامی حکومت قومی ضروریات کے ان شعبوں میں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیاہے 15بہترین مراکز کا انتخاب کرے اور انہیں اضافی ترقیاتی گرانٹس دے کر مضبوط بنائے، تاکہ اپنے اپنے شعبوں میں پی ایچ ڈی کی سطح کی تربیت کے لیےقومی مراکز بن جائیں، مزید سپورٹ کے لیے صرف وہ مراکز چنے جائیں جہاں اعلیٰ معیار کی افرادی قوت پہلے سے موجود ہو اور گزشتہ تحقیقی کارکردگی بین الاقوامی معیار پر رہی ہو۔ یہ ضروری ہے کہ قابل ِ صرف اشیاء اور پرزہ جات / دیکھ بھال کے لیے فراہم کی جانے والی گرانٹس کافی مقدار میں ہوں ،تاکہ مراکز مناسب طور پر کام کر سکیں۔ سائنس اورٹیکنالوجی کے ذریعے خود انحصاری کا حصول حکومت کے سامنے ایک بڑامقصد یہ ہونا چاہئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اطلاق کے ذریعے خودانحصاری حاصل کرنے کے طریقے اور راہیں تلاش کی جائیں، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ درآمدات کم اور برآمدات کو فروغ دینے کے پروگرام وضع کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جائیں۔ ٭پاکستان جو اشیاء درآمد کرتا ہے، ان کی فہرست (اشیاء کی مقدار اور قیمتوں کے ساتھ) تیار کی جائے اور ملک کے سائنسی اداروں کو اس وضاحت کے ساتھ بھیجی جائے کہ حکومت تین سال تک درآمدات گھٹانے کے تحقیقی پروجیکٹس کو فنڈ کرنے پر رضا مند ہے جب کہ باقی پروجیکٹ اخراجات دس لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہوں، ہر پروجیکٹ اخراجات دس لاکھ روپے سے زیادہ ہوں، ہر پروجیکٹ کی حتمی رپورٹ میں ایک اقتصادی فزیبلٹی اسٹڈی شامل ہو۔ ٭جو پروجیکٹ اطمینان بخش طور پر مکمل ہو جائیں اور جن میں تجارتی امکانات پرکشش ہوں، انہیں پائلٹ پلانٹ لیول اسٹڈیز کے لیے فنڈ فرام کیا جائے۔ تین سال کے عرصے کے دوران فی پروجیکٹ کا فی بجٹ دیا جائے ابتداء میں پروجیکٹ انہی سائنس دانوں / اداروں کو پائلٹ پلانٹ اسٹڈیز کے لیے دیا جائے ۔جنہوں نے لیبارٹری کی سطح پر کام کیا ہو۔ ٭ان پروجیکٹس کو جو اقتصادی طور پر قابل عمل ہوں، قومی پریس کے ذریعے صنعت کاری کے لیے تشہیر دی جائے ساتھ ہی حکومت سستے درآمد کنندگان / اسمگلنگ سے تحفظ فراہم کرے، ترقیاتی کام میں شامل سائنس دانوں/ اداروں کو ترغیب کے طور پر نیٹ سیلز میں سے رائلٹی دی جائے۔ پاکستان ایٹمی کلب کا ممبر بنا 28مئی 1998ء کو پاکستان نےبیک وقت پانچ دھماکے کیئے، پھر 30مئی 1998ء کو مزید دو دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان ایٹمی کلب کا ممبر بننے کا بھی اہل ہو گیا ۔ یوں 1974ء میں بھارت کا پہلا دھماکہ پھر 11اور 13مئی 1998ء کو ہونے والے پانچ دھماکوں کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد اور ممبر ٹیکنیکل ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق تقریباً 150 سائنسدانوں ، انجینئروں اور ٹیکنیکل حضرات کی ٹیم نے دن رات ایک کر کے یہ اہم سنگ میل طے کیا ہے۔ جب کہ موسم گرم ترین تھا اور درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ۔ پہلے پانچ دھماکوں کی تفصیلات کے مطابق پانچ کنوئیں جن کی گہرائی 800 سے 835 میٹر تھی اور قطر سات فٹ تھا کھودے گئے اور دھماکوں سے چار دن قبل ان کنوئوں میں ٹیسٹ ڈیوائش اتر دی گئیں جنہیں کنکریٹ سے بند کر دیا گیا۔چاغی میں کئے گئے دھماکوں میں سب سے بڑا دھماکہ 40 کلو ٹن سے زائد کا تھا جو ہ ہیرو شیما پر استعمال کیے جانے ولے دو بموں کے برابر ہے۔ کہوٹہ لیبارٹریز کی ٹیم جس کےسربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے وہ بھی اس موقع پر موجود تھی۔ دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی گرمی کی شدت سے کالی چٹانیں سرمئی ہو گئیں۔ دھماکہ کے بعد سائنس دانوں نے اس جگہ کا معائنہ کیا کہ کہیں کوئی تابکاری کے اثرات تو نہیں ہیں، مگر کسی قسم کی تابکاری کے کوئی اثرات نوٹ نہیں کئے گئے۔ 30مئی کو مزید دھماکوں میں دونوں ایک ایک کلو ٹن کے تھے پہلے پانچ دھماکوں میں سے تین دھماکے کم پیدا واری (لوییلڈ) دھماکے تھے۔ پاکستا ن کے تیار کردہ میزائل پاکستان کا حتف 7یا بابر میزائل زمین سے زمین اور زمین سے سمندر میں مار کرنے والا میزائل ہے جو ہر طرح کے جوہری اور روایتی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی حد پانچ سو کلومیٹر ہے۔ بابر میزائل کی نشان دہی کسی بھی ریڈار سسٹم یا دفاعی سسٹم پر نہیں ہو سکتی اور اس میزائل کو زمین کے علاوہ جنگی کشتی، آبدوز اور ہوائی جہاز کے ذریعے بھی پھینکا جا سکتا ہے اور یہ پاکستان کے سرکردہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے سب سے دور مار کرنے والے میزائل شاہین ٹو کا بھی تجربہ کیا ہوا ہے اور یہ میزائل جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین 2، دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور متعدد بھارتی مقامات تک باآسانی پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین میزائل کو پاکستان میں سب سے اہم بیلسٹک میزائل سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ غوری ،حتف اور عنزہ میزائل بھی موجود ہیں۔ یہ زمین سے فضا، زمین سے زمین اور اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ہیں۔غوری پاکستان کا پہلا MRBM بیلسٹک میزائل ہے۔ یہ 1500 یا 1800 کلومیٹر دور تک ایک 30 ٹی این ٹی ایٹم بم یا کیمیائی بم یا کوئی عام بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غوری ٹوایک میڈیم رینج بیلسٹک میزائل ہے، جس کی رینج 2000کلومیٹر ہے۔ اسے کے آر ایل، پاکستان نے بنایا ہے۔ قریباً اب تک 50 سے 100 کے درمیان غوری میزائل بنائے جاچکے ہیں۔ اسے میزائل بردار گاڑی (TEL) سے چلایا جاتا ہے۔ پہلی بار اس کا تجربہ 6 اپریل 1998ء کو ٹلہ جوگیاں کے قریب ملوٹ ضلع جہلم میں کیا گیا۔ عنزہ میزائل زمین سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل ہے ۔یہ 5 کلومیٹر کی اونچائی تک اڑاتے ہوئے اہداف تک پہنچ سکتا ہے۔ اسے پاکستانی کمپنی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے بنایا ہے۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں