چاند کو چُھونے کی لگن مانگو

Monday / Aug 09 2021

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

14 اگست 2021ء کو پاکستان کے قیام کو74 برس ہوجائیں گے قوموں کی زندگی میں 74 برس کسی بھی شعبے میں ترقی کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن ہمارا شمار اب تک ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ،گر چہ مختلف شعبوں میں ہم نے ترقی کی ہے۔ ہمارے قدم بڑھے ہیں اور مسلسل بڑھ رہے ہیں ،ان ہی میں ایک شعبہ سائنس کا میدان ہے ۔ہم نے سائنس میں کیا کچھ کیا ہے، عالمی تناظر میں مختصراً جائزہ لیتے ہیں ۔ عالم اسلامی اور مغربی ممالک میں علمی قابلیت کے فرق کا اندازہ اس حیرت ناک اور افسوسناک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ 90 نوبل انعامات انگلستان کی صرف ایک ہی جامعہ، جامعہ کیمبرج کے فیکلٹی ممبران کو ملے ہیں اور 32 نوبل انعامات اس جامعہ کے ٹرینیٹی کالج (Trinity College) کے اساتذہ کو ملے ہیں۔ اس کےبرعکس سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسلامی دنیا کے کسی بھی سائنسدانوں کو تحقیقی خدمات کے سلسلے میں ایک بھی نوبل انعام نہیں ملا ہے۔ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک کم آمدن پیداوار کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں جو کہ بیشتر زرعی معیشت پر منحصر ہے۔ پاکستان کی 60 فی صد صنعتیں کپڑا سازی کی صنعتوں پر مشتمل ہیں اور اس کم آمدن صنعت کی برآمدات میں مصروف ہیں جب کہ عالمی منڈی میں مارکیٹ کے اعتبار سے یہ صنعت صرف 6فی صد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ گزشتہ 50 سالوں کی عالمی برآمدات اور مصنوعات سازی کے رجحانات پر ایک عام تجزئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی وسائل کی برآمدات اور کم ٹیکنالوجی والی مصنوعات کی برآمدات میں عالمی منڈی میں تیزی سے کمی آئی ہے جب کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی والی مصنوعات کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سائنس ہی وہ شعبہ ہے ،جس میں بے حد منافع ہے ۔ سائنس ٹیکنالوجی اور جدّت طرازی کے نفاذ کے لئے حکمت عملی کی تیاری اورمستقل تجزیہ کے لئے ادارہ قائم ہونا چاہیے ۔ 2004 ء سے 2006 ء کے دوران ایک عملی پلان ماہرین کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا جسے اگست 2007 ء میں کابینہ نے منظور بھی کیا تھا۔ اس مسودے میں ان تمام کلیدی اقدامات کا ذکر ہے جن کے ذریعے پاکستان علم پر مبنی معیشت (knowledge based economy) میں منتقل ہو سکتا ہے، مگر افسوس کہ اس پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس کے نفاذکے لئے انتہائی ضروری ہے کہ قومی ترقیاتی منصوبوں میں سائنس ٹیکنالوجی اور جدّت طرازی کی پالیسیوں کے لئے مناسب فنڈز اور تحقیق و ترقی کے لئے ایک بڑی رقم مختص کی جائے جوملکی مجموعی پیداواری صلاحیت (GDP) کا کم از کم 2 فی صد ہو۔ علم پر مبنی معیشت (Knowledge Economy)کا سب سے اہم عنصراس کے معیاری تعلیم یافتہ، پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس کارندے ہوتے ہیں۔لہٰذا اسکولوں ، کالجوں ، اور جامعات کا تعلیمی معیار اور تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی اشدضرورت ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ طلباء میں مسائل کو حل کرنے کی مہارت ، جدت طرازی اور تنقیدی سوچ اُجاگر کی جائے۔ بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی پر زور دیا جائے ۔اس کے لیےمعیاری تعلیم کی فراہمی اور امتحانی نظام کے انداز میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں کم از کم اپنی GDP کا 6 فی صد حصّہ تعلیم کے لیے مختص کرنا چاہیے، جس کا ایک چوتھائی حصّہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لئے مختص کیا جائے۔ یہ قدم عالمی معیار کے تحقیقی اداروں کے قیام اور اعلیٰ معیار کے پیشہ ور افراد (سائنسدان اور انجینئرز) تیکنیکی تربیت یافتہ افرادی قوت کی تشکیل میں مدد گار ثابت ہوگا۔ اس طرح معیاری ماہر اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس تحقیق و ترقی سے وابستہ افراد مناسب تعداد میں مہیا ہو سکیں گے۔ ان کی تعداد تقریباً 2500 سے 3000 افرا دفی دس لاکھ آبادی ہونی چاہیے ،تاکہ یہ دیرپا ترقی کا سبب بن سکیں۔ اسی طرح ملک کے نجی شعبوں کاعلمی معیشت (Knowledge Economy) کے قیام میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ پاکستان کو اہم نجی شعبوں کو فروغ دینے کے لئےمناسب منصوبہ بندی ، صنعتی حلقوں میں سرمایہ کاری اور ترغیبات پر زور دینا چاہیے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم و سائنس کے فروغ کا مختصر جائزہ 2002 ء میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن(Higher Education Commission) قائم ہوا، بعدازاں جامعات اور تحقیقی اداروں میں بڑی تیزی سے ترقی رونما ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کمیشن نے بہت سے متحرک اقدامات اٹھائے ،تا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر کیا جاسکے ،کیوں کہ آج کی دنیا علم کی دنیا ہے اور اس میں وہی ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جنہوں نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کو ا پنی ترقی کی بنیاد بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور جیسے چھوٹے سے ملک میں کوئی قدرتی وسائل نہ ہونے کے باوجود سالانہ بر آمدات 518 ارب ڈا لر ہیں ۔جب کہ پورے پاکستان کی بر آمدات 23 ارب ڈالر سالانہ پر محدود ہیں ۔اس کی اصل وجہ سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی قدرتی وسائل سے استفعادہ کیا گیا ۔ سائنس ، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے شعبے میں ہونے والی چندجدید ایجادات کا سر سری جائزہ لے کے اپنا احتساب کریں کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور دنیا کہاں جارہی ہے۔ جدید شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب بڑھتا ہوا ایک شعبہ خود کار موٹر گاڑیو ں کا ہے ۔ خود کار گاڑیوں کے نمونے (Prototypes) تیار ہو چکے ہیں اور تجارتی بنیادوں پر دستیاب بھی ہیں۔ اگلے پانچ سے دس سالوں میں ڈرائیوروں کے بغیر گاڑیاں ، بسیں اور ٹرک ہمارے زیر استعمال ہوں گے اور سڑکوں پر رواں دواں نظر آئیں گی۔ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پرتیار ہے، بس حفاظتی اقدامات ، بیمہ اور ٹریفک قوانین پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ علاوہ ازیں ایک ایسی گاڑی بھی تیار کی گئی ہے ،جس کا ڈیش بورڈ فوراً تبدیل ہوکر ایک دفتر کی طرح بن جا تا ہے۔ اس کمپنی نے wagon 22ایک ایسی الٹرا سانک (ultrasonic) ٹیکنالوجی ایجا دکی ہے جو پارکنگ کے لئے موجود خالی جگہ کا اندازہ باآسانی لگا کر خود پارک ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک مشہور زمانہ موٹرگاڑیاں بنانے والی کمپنی نے گاڑی کا ایک نمونہ F 015 تیار کیا ہے، جس کے دروازے لچکدار بنائی گئی ہیں جو گاڑی کو ایک تھیٹر میں تبدیل کر دیتی ہیں اور اس میں سوشل میڈیا اور آئی سی ٹی کو استعمال کرنے کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ آئی سی سی بی ایس ، کراچی یونیورسٹی میں نصب ایکس رے کرسٹیلو گرافی سسٹم ایک اور جدید ٹیکنالوجی 3D چھپائی کے بے شمار استعمال’’ انفجار عظیم تہلکے‘‘ (big bang disruption) سے کم نہیں ہیں ۔ ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو صرف کثیر سالمی (polymeric) موادکے لئے استعمال کیا گیا لیکن حال ہی میں اس کا استعمال دیگر اجزاء مثلاً لوہے، پیتل ، چینی کے برتن، اور چونا پتھر کے ساتھ کامیابی سے کیا گیا ہے۔ پہلا مکمل دھات سے تیار کردہ جیٹ طیار ے کا انجن اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے گزشتہ سال آسٹریلیا کی جامعہ موناش (Monash University) کے سائنسدانوں نے 3D چھپائی کے ذریعے تیار کیا تھا۔ CoCoJet نامی کمپنی اس 3D چھپائی کے ذریعے چاکلیٹ کو مختلف ڈیزائینوں میں بنا رہی ہے ۔ ایک قلم جسے"3D Doodler" کا نام دیا گیاہے۔ اس میں سے پلاسٹک کا باریک تار نکلتا ہے جو کہ ٹھوس اجزاء کو 3D چھپائی کے عمل کے ذریعے بنانے میں مدد کرتا ہے ۔ 3D چھپائی کے ذریعے انسانی جسم کی مختلف ہڈیاں بھی تیار کی گئی ہے اور حا ل ہی میں انسانی گردوں اور جگر کے حصوںکو 3D چھپائی کے ذریعے تیار کیا ہے۔ ایک اور جدید ٹیکنالوجی ’’اشیاء کا انٹر نیٹ ‘‘ (Internet of Things ) ہے۔ جو ہمارے ارد گرد کی تمام چیزوں سے ہمار ا تعلق بناتا ہے۔ مثلاً ایسے چھوٹے آلات ہماری روز مرہ کی استعمال کی چیزوں کے اندر نصب ہوتے ہیں جنہیں ہم اسمارٹ آلات کہتے ہیں ۔ ایک بر وقتی ترجمہ (real time translation) کا آلہ بھی تیار کر لیا گیا ہے جو کہ زبان سے ادا ہوتے ہی فقرے کے ساتھ ساتھ ترجمہ کر تے ہے یعنی اگر کوئی انگریزی میں کسی چینی سے بات کررہا ہو تو وہ چینی شخص انگریزی کی بجائے چینی زبان ہی میں سن رہا ہوگا اور یہی اگلے فرد کے ساتھ ہوگا کہ وہ انگریزی میں اس چینی کا جواب سن رہا ہوگا ۔ اس کے برعکس پاکستان کی صورت حال بالکل جد اہے۔پیرٹ (Parrot) نامی کمپنی نے ایک ایسا گملہ دریافت کیا ہے، جس میں درجۂ حرارت ، نمی، سورج کی روشنی، اور کھاد کی سطح کی پیمائش کے سینسر (sensors) لگے ہوئے ہیں۔ ان میں کسی بھی چیز کی مقدار میں کمی بیشی ہو گی تو فوراً آپ کے اسمارٹ فون پر اطلاع آجائے گی۔ اسی طرح اسمارٹ گھر بھی بنائے گئے ہیں جو کہ خود کار طریقے سے روشنی اورحرارت کی کارکردگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک دماغ پڑھنے والی ٹوپی بھی تیار کی گئی ہے ،جس کے ذریعے سوچ کے احکامات کمپیوٹر سے منسلک ہوتے ہیں اور ان کے تحت گاڑی یا وہیل چیئر کو چلایا جاسکتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بر قی ملبوسات (E-textiles) بھی تیار کیا گیا ہے ۔جن میں بے شمار رنگ و ڈیزائنز نصب کیے گئے ہیں ۔محض ایک بٹن دبانے سے آپ کے لباس کا رنگ اور ڈیزائن فوراً تبدیل ہو جاتا ہے اور اب ایسے کپڑے بھی ایجاد ہوگئے ہیں جن کا رنگ آہستہ آہستہ چند گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ ان 74 سالوں میں دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان میں سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت ہی کم ترقی ہوئی ہے ،مگر تھوڑی بہت ایجادات ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے پا کستان نے ترقی کی راہ پر چند قدم بڑھائے ہیں ۔نینو ٹیکنا لوجی سائنس کی وہ شاخ ہے ،جس میں نینومصنوعات کی تخلیق کے لیے اربوں ڈالرز کی سر مایہ کاری ہورہی ہے ۔ نینوٹیکنالوجی کا شعبہ دو ابتدائی دریافتوں کی وجہ سے پروا ن چڑھا 1981 ء میں پہلا scanning tunneling microscope دریافت ہوا ،جس کے ذریعے جوہر (atoms)کے جوڑوں کو دیکھا جا سکتا تھا۔ ایک اور دلچسپ دریافت 1985 ء میں ہوئی ،جس میں فٹ بال کی طرح کے کاربن کے سالمے جنہیں (buckyballs)کا نام دیا گیا،دریافت کیے گئے۔ان دریافتوں کے فورا بعد (carbon nano tubes) دریافت ہوئیں،جن کانئے مادّو ں کی تیّاری اور برقی آلات میں وسیع استعمال سامنے آیا۔ نینو ٹیکنالوجی کے شعبے کی افادیت کا اندازہ حال ہی میں اس تخمینہ سے لگایا گیا ہے کہ اس شعبےسے متعلق تقریباً دو ہزار سے زائد مصنوعات آج بازار میں موجود ہیں۔ لباسوں کی تیّا ری کے لئے بھی اس شعبے کو استعمال کیا جا رہا ہے ،تا کہ زیا دہ مضبوط اور پائیدار کپڑا تیار کیا جا سکے۔ٹینس کی گیندوں کو پائیدار بنانے کے لئے اس کی بیرونی سطح پر ایک مخصوص نینو مادّے کی تہہ چڑھائی جا تی ہے ۔جراحی کے آلات اور دیگر دھاتوں کو بھی نینو مادّے کی تہہ کے ذریعے مزید مضبوط کیا جاتا ہے ۔ وڈیو گیمز کے بیرونی ڈھانچے اور موٹر گاڑیوں کی بیرونی سطحوں پر بھی نینو مادّوں (nanomaterials) کی تہہ چڑھائی جاتی ہے، تاکہ انہیں خراشوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ریشہ انجینئرنگ(tissue engineering ) کے شعبے میں بھی نینو ٹیکنالوجی بہت مفید ثابت ہو رہی ہے ۔ پاکستان میں قومی کمیشن برائے نینو سائنس و ٹیکنالوجی(The National Commission of Nano Science and Technology (NCNST) کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ آج اس ادارے کی وجہ سے پاکستان کی کئی جامعات میں مادّی سائنس (material science) کے میدان میں ترقی ہو رہی ہے ۔ قومی نینو ٹیکنالوجی کا ایک بہت اہم مرکز بین الا قوامی مرکز برائے کیمیائی وحیاتیاتی سائنس ،جامعہ کراچی میں اپنی نوعیت کا سب سے زیادہ طاقت ور اسپیکٹر و میٹر نصب ہے ۔جسے چند سال قبل علاقائی یونیسکو مرکز (Regional UNESCO centre) کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ یہ پاکستان کے لئے بڑے فخر کی بات ہے، کیوں کہ اس شعبے میں اس خطے کا یہ واحد ادارہ ہے، جس کو یہ اعزاز ملا ہے ۔ اس وقت آئی سی سی بی ایس میں بہت اعلیٰ اور جدید ترین آلات نصب ہیں جن میں بارہ سپر کنڈکٹنگ جوہری مقناطیسی گونج اسپیکٹرومیٹر (superconducting nuclear magnetic resonance spectrometers)،اور پندرہ ماس اسپیکٹرومیٹر (mass spectrometers) شامل ہیں۔ جیول HX110 ماس اسپیکٹرومیٹر، جوہری ساخت کا تعین کرنے کے لئے بھاری مقدار میں برقی بمباری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں پیش رفت توانائی کے میدان میں برق رفتاری سے حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہو ہی ہیں اور جلد ہی ہم روایتی توانائی کے بجائے صاف اور قابل تجدید توانائی (renewable energy) استعمال کررہے ہوں گے۔ قابل تجدید توا نائی کی بہت کم قیمت نے توانائی کے شعبے میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ بہت سے ممالک اس جانب تیزی سے آرہے ہیں، تقریباً بیس سال میںتیل کی حیثیت بہ طور زریعہء توانائی نہایت کم ہو جائے گی اور اس کی جگہ حیرت انگیز اورکم قیمت قابل تجدید توانائی کے ذرائع لے لیں گے۔ کچھ ممالک میں سمندر کے کناروں پر ہوائی چکیاں توانائی پیدا کرنے کے لیےاستعمال کی جارہی ہیں ۔اسی طرح شمسی فارمز (Solar farms) وجود میں آگئے ہیں جہاں آئینوں سے منعکس کردہ شمسی روشنی حرارت کی صورت میں حاصل کی جاتی ہے۔ یہ توانائی نمک کو گرم کر کے پگھلانے اور اس سے برقی چکیاں (Electricity Turbines)چلانے کے کا م آتی ہے ۔ اس کے علاوہ کفایتی قیمت پر شعائی توانائی کوشمسی خلیوں (solar cells)کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر حاصل کیا جا رہا ہے ۔ توانائی کے میدان میں اس تیز پیش رفت کی بدولت وہ دن دور نہیں جب ہم شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے پینلزکے بجائے شمسی توانائی کے تابع دروازے اور کھڑکیاں استعمال کر رہے ہوں گے۔ تجارتی بنیادوں پر موجود شمسی خلیوں کی کار کردگی 14-18 فی صدہے جب کہ نئے multi-junction شمسی خلیوں کی کارکردگی 38- 42 فی صد ہے لیکن ان کی پیداوار زیادہ مشکل اور مہنگی ہے۔ ہمارے کرۂ ارض پر سب سے زیادہ مقدار میں پایا جا نے والا خام مال سیلیولوز (cellulose) ہے۔ سیلیولوز لکڑی، پودوں کی پتیوں، روئی اور پودوں کے دیگر اجزاء میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ سائنس دان کافی عرصے سے اس کوشش میں تھے کہ کو ئی ایسا بیکٹیریا مل جائے جو سیلیولوز (cellulose) کو بیوٹانول( Butanol) میں تبدیل کر سکے، کیوں کہ بیوٹانول موٹر گاڑیوں کے انجن کے لئے حیاتی ایندھن کے طور پر استعمال ہوسکے گا۔ اب اس کا حل مل گیا ہے۔ سائنس دانوں کی ٹیم نے حیاتی ایندھن پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی صنف کو دریافت کر لیا ہےجوپرانے اخباروں میں پائے جانے والے سیلیولوز کو بیوٹانول میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ بیوٹا نول کے بہ طور ایندھن استعمال ایتھانول (ethanol) کی نسبت زیادہ فوائد ہیں ۔ بیوٹانول کوکسی ترمیم کے بغیر براہ راست گاڑیوں کے انجن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان حالیہ پیش رفتوں سے مستفید ہونے کے لئے پاکستان کو سا ئنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو اولین ترجیح دینی ہو گی۔ ہمیں فی الحال یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت توانائی کے میدان میں کیا پیش رفت ہو رہی ہیں اور ہم ان دریافتوں سے کس طرح مستفید ہو سکتے ہیں ۔2000 ء سے 2002 ء کے دوران ملک میں مختلف مقامات پر 10 میٹر اور 30 میٹر کی بلندیوں پر ہوا کی رفتار کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لئے ملک میں محکمہ موسمیات کے ذریعے ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا ،جس کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ سندھ میں ایک بہت بڑی ہوائی راہداری کا انکشاف ہوا جو کٹی بند ر اور گھا رو کے درمیان ہے اور بلوچستان کے کچھ ساحلی علاقوں کے قریب بھی ہے ۔ یہاں ہوا سے 50,000 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ توانائی کی کمی کے شکار ملک میں یہ تیل کے ایک ہزار نئے ذخائر کی دریافت کے مترادف تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم تیزی سے ایک بہت بڑا ہوا سے توانائی حاصل کر نے کا منصوبہ تیار کرتے اور بہت سستی بجلی یعنی 2.5سے 4 روپے فی کلو واٹ کے حساب سے بجلی عوام کو فراہم کرتے، لیکن بدقسمتی سے پورا منصوبہ بدعنوانی کی نظر ہو گیا۔ حتیٰ کہ 100 میگا واٹ کی ہوائی چکیاں تک نصب نہیں کی جا سکیں۔ افسوس کہ ہمارے سربراہان نے کبھی خود انحصاری پر زیادہ توجہ ہی نہیں دی بلکہ ہمیشہ غیر ملکوں کے رحم و کرم پر رہنے کی کوشش کی ۔ پاکستان کا پہلا نینو ٹیکنالوجی کا مرکز (center on nanotechnology) بین الاقوامی ادارہ برائے حیاتی و کیمیائی سائنسز ، جامعہ کراچی میں قائم ہے،اسے حکومت کی سر پرستی سے عالمی معیار کا بہترین مرکز بنایا جاسکتا ہے ۔ ہم نے ان سطور میں سائنس ،ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے اہم کردار پر زوردیاہے۔ہمیںیہ یاد رکھنا چاہیےکہ مستحکم قومی معیشت کے قیام میں قدرتی وسائل کی اہمیت اب کافی حد تک کم ہوگئی ہے۔ اس کی جگہ تخلیقی صلاحیتوں سے لیس معیاری افرادی قوّت نےلےلی ہے ۔اسی لئے تیزی سے ترقی کی جانب رواں دواں ترقی پزیر ممالک اپنا بجٹ دیگر شعبہ جات میں کم اور تعلیم ،سائنس اور جدت طرازی کے فروغ کے لیے زیادہ مختص کر رہے ہیں،تاکہ وہ نئے چیلنجز کا سامنا ڈٹ کرکر سکیں۔کسی بھی ملک کی بہتر سائنسی حا لت کا اندازہ وہاں کے سائنس دانوں یا مقامی کمپنیوں کی جانب سے پیٹنٹس (patents) حاصل کرنے کے لیے دائر کردہ درخواستوں سے ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران ہر سال اپنے سائنس دانوں کی جانب سے 6000 پیٹنٹ کی درخواستیںدائر کرتاہے جب کہ پاکستان کے سائنس دانوں کی جانب سے صرف چند سو پیٹنٹس کی درخواستیں ہی دائر ہوتی ہیں۔ یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے۔آج کی دنیا میں حقیقت خوابوں سے زیادہ اجنبی بن گئی ہے۔ سائنس نے صنعتی شعبے کی کس طرح کا یا پلٹی ہے اور کس طرح ہماری زندگیوں کو تبدیل کررہی ہے اس کی چند مثالیں قارئین کے لئے پیش ہیں۔ دنیا کے پہلے انسانی جینوم کی مکمل ترتیب جاننے پر 6 کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت آئی تھی اور تیرہ سالہ کاوش کے بعد مئی 2006 ء میں یہ ترتیب مکمل ہوئی تھی۔ پاکستان میں پچھلے9 سالوں میں اس میدان میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے ۔ اس کی ایک بہترین مثال جامعہ کراچی میں جمیل الرّحمٰن مرکز برائے جینیاتی تحقیق(Jamil -Ur-Rehman centre for Genomics Reserach ) جوبین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائنسز میں واقع ہے۔ وہاں ایک جدید آلہ نصب ہے۔ اس آلے کی مدد سے ایک انسانی جینوم کی مکمل ترتیب تقریباً دس دن میں معلوم کی جا سکتی ہے ،جس پر صرف 5,000 امریکی ڈالرز سے کم لا گت آتی ہے ۔ مز ید بہت سستی جینیاتی ترتیب جانچنے کی مشینیں ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں جو کم وقت اور کم لاگت ، یعنی ہزار ڈالر تک میں انسا نی جینیاتی ترتیب معلوم کرسکیں گی ۔ اس میدان میں ایک اور ترقی یہ ہوئی ہے کہ ایک آسان سا جینیاتی تجزیہ، جس پر چند سو ڈالر کی لاگت آتی ہے ایک انسانی ڈی این اے (DNA) میں موجود نقائص کی معلومات فراہم کردیتا ہے، جس سے مستقبل میں ہونے والی بیماریوں کے سامنے آنے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آج کی سائنسی دنیا میں تجارتی بنیادوں پر لاکھوں پودوں کی بیجوں کے بغیر پیداوار ممکن ہوگئی ہے ۔عالمی سطح پر ترقی کی یہ محض چند مثالیں تھیں جوعالمی معیشت پرمثبت انداز سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہر روز بہت سی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیںاور وہی ممالک اور ادارے اقتصادی ترقی میں پیش پیش ہیں جو سائنس اور جدت طرازی پر لاکھوں ، اربوں ڈالرزکی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس سائنسی دور نے دنیا کو دو قسم کے ممالک میں بانٹ دیا ہے ایک وہ جو اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل ہیں اور اسے بھاری منافعے کے عوض فروخت کرکے اپنی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں اور دوسرے وہ غریب ممالک جو ہاتھوں میں کشکول لئے کھڑے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان کا شمار بھی ان غریب ممالک میں ہوتا ہے ،کیوں کہ یہاںاب تک مسلسل ا س ا ہم ترین شعبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے لئے حقیقی چیلنج ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو پاکستان کومو جودہ کم آمدن والی معیشت کے چنگل سے آزاد کرکے زیادہ آمدن والی ’’علمی معیشت ‘‘(Knowledge Economy) کی جانب لے جاسکے۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں