شمسی توانائی کے میدان میں حیران کن ترقی

Monday / Nov 28 2022

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

اگر ہم غور کریں تو شمسی توانائی کے کمالات بے شمار ہیں جن سے ہم بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ سورج کی موجودگی ، روشنی اور حرارت جو ہم دن میں محسوس کرتے ہیں وہ رات کے اندھیروں کو بھی چاک کرسکتی ہے۔ وہ حرارت جو ہمیں دن میں بے چین کرتی ہے تو رات میں سکون کا سامان بھی بن سکتی ہے۔ جہاں سورج ماہر فلکیات کے لئے شروع ہی سے اہم مرکز رہا ہے۔ وہاں سائنسدانوں نے بھی اس ستارے پر بے تحاشہ تحقیق کی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ان تحقیقات کا روپ مزید نکھرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف جد ید سائنسی ایجادات اپنے جلوے دکھا رہی ہیں تو دوسری جانب پرانی ایجادات مزید فعال اور بہتر سے بہترین کی جانب رواں دواں ہیں۔ شمسی خلئیہ کی ٹیکنالوجی میں اہم دریافت شمسی خلئیہ کی کارکردگی تقریباً 20فی صد تک ہوتی ہے جب کہ ان کی تیاری میں کافی لاگت آتی ہے، جس کی وجہ سے یہ توانائی کی پیداوار کے دوسرے ذرایع مثلاً تیل ،گیس، ایندھن یہاں تک کہ جوہری توانائی کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ روشنی کے طیف (اسپیکٹرم) کے صرف ایک حصے کو استعمال کرتے ہیں جب کہ روشنی کے طیف کا دوسرا حصہ جو حرارت پیدا کرتا ہے، ضایع ہوجاتا ہے۔ ابسٹین جامعہ میں کام کرنے والے سائنس دانوں اوران کے ساتھیوں نے ایک نئی قسم کا شمسی خلئیہ تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی حرارت کو استعمال کرکے اس کو بجلی میں تبدیل کردیتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی جسے پیٹ (یعنی Photon Enhanced Thermionic Emission, PETE) کہا جاتا ہے۔یہ انتہائی بلند درجہ پر کام کرسکتی ہے ،اس وقت میسّر شمسی خلئیہ کے برخلاف اس کی روشنی اور حرارت کو استعمال کرکے جوصلاحیت پیدا کی جاتی وہ نئے شمسی سیل کی کار کردگی 50 فی صد تک بڑھا سکتی ہے، جس سے یہ ٹیکنالوجی بجلی پیدا کرنے کے دوسرے ذرائع کے مقابلے پرآجائے گی۔ جنوبی افریقامیں دنیا کا سب سے بڑا شمسی پاور پلانٹ تعمیر ہونے والا ہے ۔ دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا پاور پلانٹ جو پانچ گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جنوبی افریقا کے شمالی میں صحرائے کالاہاری کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے گرم ترین تین فیصد ی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ پلانٹ میں مرتکز کئے جانے والے شمسی آئینوں کا(پاور ٹاور میں محرابی اور برتن کی شکل میں دونوں انداز کے آئنے استعمال ہوتے ہیں) فوٹووولٹانک ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ شمسی توانائی، پگھلے ہوئے نمک کا استعمال شمسی حرارتی پاور پلانٹ میں عام طور پر پیرا بولک آئنے استعمال کیے جاتے ہیں جو سورج کی روشنی کو ایک بوائلر سسٹم پر مرتکز کرتے ہیں ۔اس سے پیدا ہونے والی بھاپ ٹر بائن چلانے کے کام آ تی ہے اور ان ٹر بائن کی مدد سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس میں خامی یہ ہے کہ پلانٹ صرف اس وقت کام کرے گا جب تک سورج چمک رہا ہوگا اور رات کے وقت کام کرنا بند کردے گا۔ بجلی کو ذخیرہ کرنے والی بیٹری کے استعمال کا امکان ممکن ہے، مگریہ بہت مہنگا طریقہ ہے۔ اب امریکا کی ایک کمپنیSolar Reserve ایک ایسا پلانٹ تعمیر کر رہی ہے جو سورج ہی سے حاصل ہونے والی حرارت کو پگھلے ہوئے نمک کی شکل میں جمع کرے گی۔ سوڈیم نائٹریٹ اور پوٹاشیئم نائٹریٹ کا آمیزہ 1000ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ پر سورج کی روشنی سے گرم کیا جاتا ہے، جس کو ہزاروں آئینوں کے ذریعے مرتکزکیا جاتا ہے۔ پگھلا ہوا نمک بعد ازاں بجلی پیدا کرنے میں استعمال کیا جا تا ہے۔ اس طرح کہ اس کو ایک پائپ کے ذریعے حسب ضرورت دخانی ٹر بائنsteam turbineسے جوڑ دیا جا تا ہے پگھلے ہوئے نمک کی ٹیکنالوجی اس سے قبل Mojareصحرا میں 10 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی تھی۔ اب150میگاواٹ شمسی توانائی کا پلانٹ کیلی فورنیا میں قائم ہوگا۔ اس کو مکمل ہونے میں تقریباً 13مہینے لگیں گے۔ شمسی توانائی والی کھڑکی ایک خوبصورت پھولوں سے منقش شیشے کی کھڑکی جو بجلی بھی پیدا کرسکتی ہے ایک افسانہ محسوس ہوتا ہے ،مگر ایک نجی کمپنی نے ٹوکیو میں 2010 ءمیں ہونے والی نمائش میں اس قسم کی کھڑکی کا ابتدائی نمونہ پیش کیا ۔ اس کھڑکی میں ا یک (Dye Sensitized Solar Cell, DSSC) کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں توانائی جمع کرنے کی 10فی صد تک صلاحیت ہوتی ہے خوبصورت ڈیزائن کے لئے اسکرین پرنٹنگ کی تکنیک استعمال کی گئی جب تک سورج کی روشنی کھڑکی کو ملتی رہی اس سے ایک پنکھا چلتا رہا۔ شمسی پینل جوکہ روشنی اور حرارت استعمال کرتے ہیں سورج زمین کو جتنی حرارت دیتا ہے اس کا نصف سے کم حصہ زیریں سرخ روشنی پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ باقی حرارت نظر آنے والی روشنی کی صورت میں ہوتی ہے ۔ جب چمکدار سورج کی روشنی سمندر کی سطح پرپڑتی ہے تو اس سے حاصل ہونے والی درخشانی (Irradiance)ایک کلوواٹ فی مربع میٹر سطحی رقبہ سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ شمسی پینل کو سورج سے نظرآنے والی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ بجلی پیدا کی جا سکے ، مگریہ سورج سے حاصل ہونے والی پوری روشنی کو توانائی کی تیاری میں استعمال نہیں کر پاتے، تاہم اس حوالے سے نئےآلات تیار کئے جا رہے ہیں جن کے ذریعے انفرا ریڈیا زیریں سرخ شعاعوں کو (جوکہ رات میں بھی میسر ہوتی ہے )توانائی بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی لاکھوں نینو اسکیل روشنی کے لئے حساس اینٹینا کی صفوں پرمشتمل ہے جوکہ اب تک توانائی کا ایک اہم ماخذہے ۔ سورج کی روشنی میں موجود کل توانائی کا نصف حصہ انفرا ریڈ حصے میں ہوتا ہے ۔ انفرا ریڈ روشنی اس وقت بھی زمین کی سطح سے منعکس ہوتی ہے جب سورج غروب ہوچکا ہوتا ہے۔ یہ توانائی رات میں بھی حرارت کی شکل میں قید کی جا سکتی ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے ادارے Idahoنیشنل لیبارٹری امریکا میں کام کرنے والے Steve Novackنے تخمینہ لگایا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سولرسیل کی نئی نسل کی کارکردگی کو64فی صد تک بڑھا یا جا سکتا ہے۔بعض سائنس دان اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ رات کو بھی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ لیکن دن کے اوقات میں اضافی حرارتی توانائی کو قیدکرکے شمسی سیل کی کارکردگی کوبہتر بنایا جا سکتا ہے اوریہ حرارت اور روشنی دونوں کو توانائی کے ماخذ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ شمسی توانائی میں تبدیل ہونے والا اسپرے نئی شمسی ٹیکنالوجی میں حقیقی طور پر حیران کن ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ ناروے کی ایک کمپنی نے ایک ایسی فلم بنائی ہے ،جس کو کھڑکی کے شیشے پر اسپرے کردیں تو وہ شمسی پینل میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اس فلم کے اندر دھاتی نینو ذرّے ایک Composite Matrix میں رکھے ہوتے ہیں یہ کام لیسٹریونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات اور فلکیات کے تعا ون سے انجام دیا گیا ہے۔ جب روشنی کا کچھ حصہ کھڑکی پر پڑتا ہے تو فلم اس کو جذب کرلیتی ہے اور کھڑکی ہلکی سی رنگین نظرآتی ہے ۔ محققین کو شمسی سیل کی اس نئی ٹیکنالوجی سے 20 فی صد کارکردگی کی اُمید ہے ۔ تصور کریں آپ کی کھڑکی کو صاف ستھرے بجلی کے جنریٹر میں تبدیل کردیا جائے۔ سورج سے ایندھن حاصل کرنے ولا ہوائی جہاز جولائی 2010 ءکو سوئزر لینڈ میںandre Borschberg جہاز میں بیٹھا اور اس کو payerne ائیر بیس سوئزرلینڈ سے اُڑانا شروع کیا ۔اس نے 5864 میٹر کی بلندی پر 10 گھنٹے تک پرواز کی ۔اس کے بعد اس کی رفتار سست پڑنا شروع ہوئی اور یہ دوبارہ زمین پرآنے سے پہلے62 گھنٹے مزید فضاء میں رہا، اس میں غیر معمولی بات یہ تھی کہ یہ انسانی ہاتھ سے اُڑایا گیا وہ پہلا جہاز تھا، جس کو مکمل طور پر سورج سے حاصل ہونے والی توانائی س چلایا گیا تھا۔ اس میں 10002 شمسی پینل اس کے 36 میٹر لمبے پروں میں نصب کیے گئے تھے جو سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کا ذخیرہ کررہے تھے ،تا کہ جہاز رات میں بھی پرواز کرسکے۔ اس نے دورانیہ اور اونچائی (اڑان ) کے حوالے سے شمسی توانائی سے چلنے والے جہازوں کا ریکارڈتو ڑدیا ، سوئس کمپنی Solar Impulse جس نے یہ جہاز تعمیر کیا تھا اب اس سے بڑاجہاز بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ نیوکلئیر فیوژن، لا محدود توانائی کی جستجو ستارے جس میں ہمارا سورج بھی شامل ہے۔ نیو کلئیر فیو ژن کے ذریعے توانائی پیدا کرتے ہیں اس عمل میں دویا زائد ایٹمی نیو کلیائی (مثلاً ہائیڈروجن ) ایک دوسرے سے مل کرایک نیابھاری ایٹم (مثلاً ہائیڈروجن )بناتے ہیں۔ اس عمل میں توانائی کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے یہ سورج پر وقوع پذیر ہونے والا نیوکلیئر فیوژن ری ایکشن ہے جوہمارے کرہ َا رض کو گرم رکھتا ہے اور جس کی وجہ سے یہاں زندگی قائم ہے ۔لارنس لیور مور نیشنل لیبارٹری کے( National Ignition Faculty )مرکزامریکا میں ایک بہت بڑی لیزر جس کی جسامت تین فٹ بال گراؤنڈ کے برابرہوگی تیار کی جا رہی ہے۔ اس میں سورج پر وقوع پزیر ہونے والے عمل کی نقل کی جائے گی۔ یہ ہائیڈروجن کی دوشکلوں آئسوٹوپ ، ڈیوٹریم اور ٹر یٹئم کو جوڑے (فیوز)گی ۔ ایک بڑی لیزر شعاع اس کوآگے اور پیچھے تقریباً1میل کے فاصلے پر دھکا دینے سے چارج ہوگی ۔ بعدازاں یہ 192شعاعوں میں تقسیم ہوجائے گی اور ایک مرتکز اندازسے ایک چھوٹے سے نکتے پرمرکوزہوگی ،جس میں ڈیوٹریم اور ٹرٹئیم ہوں گے۔ ان مرتکز شعاعوں سے چارج ہونے والا درجۂ حرارت100ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوگا جوکہ سورج سے بھی گرم ہے ،اس کے ساتھ ہی 100 بلین فضائی دباؤ پیدا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے فیوژن ری ایکشن کو لیزر سے فراہم کی جانے والی توانائی کی نسبت کئی گنا مزید،توانائی خارج کرنی چاہیے۔ اگر اس نے عملی طور پر کام کرنا شروع کردیا تو سمندری پانی جوکہ ہائیڈروجن اور اس کےآئسوٹوپ کا اہم ذریعہ ہے۔ ہمارے کرۂ ا رض پر توانائی کا سب سے اہم ماخذ بن جائے گا۔ مستقبل میں ہر ملک میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے سورج کی تخلیق عمل میں آئے گی اور یہاں سے قومی گرڈ اسٹیشن کو بجلی فراہم کی جائے گی اور پھر یہ ہمارے کر ہ ٔا رض کے توانائی کے موجودہ ماخذمعدنی تیل کو تبدیل کرکے اس کی جگہ لے لے گا۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں