ہائر ایجوکیشن کمیشن میں نشیب و فراز

Saturday / May 20 2023

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

حال ہی میں اعلیٰ تعلیم پر ایک قابل ذکر کتاب شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے“Fostering Institutional Development and Vital Change in Africa and Asia”جس کےمصنف فریڈ ہیورڈ (Fred Hayward) ہیں۔ اس کتاب کا ایک مکمل باب پاکستان پر ہے ۔ اس میں 2002 ء سے 2008 ء کے ایچ ای سی کے اس سنہری دور کا احاطہ کیاگیا ہے جب میں اس کا بانی چیئر مین تھا۔ اس دور میں پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں نمایاں مثبت تبدیلی آئی ۔ ڈاکٹر فریڈ ہیورڈ نے تعلیمی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ اس زمانے میں ملک بھر کی جامعات کے کئی دورے کئے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر بنیادی توجہ کے ساتھ درمیانی مدت کے ترقیاتی پروگرام کی تشکیل اور نفاذ کیلئے HEC کی جانب سے کئے گئے کام کا تنقیدی جائزہ لیا کہ کس طرح میں نےصرف مقدار کی بجائےمعیار کو ملحوظ خاطررکھا ۔اس کی وضاحت ڈاکٹر ہیورڈ کے مطابق درج ذیل نتائج سےواضح ہے: "2002 میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کا قیام پروفیسر عطاالرحمن کی ان کاوشوں کا پیش خیمہ ہے جو انہوں نے بحیثیت وزیر سائنس و ٹیکنالوجی انجام دی تھیں۔ 2002 میں جب صدر مشرف نے انہیں ایچ ای سی کا سربراہ مقرر کیا تو انہوں نے فوری طور پر آئی ٹی(IT)کو بہتر کرنے اور اسے وسعت دینے پر زور دیا، ایک بہترین ڈیجیٹل لائبریری قائم کی اور تمام سرکاری اور نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو رسائی فراہم کرنےکےساتھ ہی فیکلٹی اور تحقیق کی حوصلہ افزائی اور توسیع کیلئے پاکستان کا تعلیمی و تحقیقی نیٹ ورک (Pakistan Education and Research Network, PERN) قائم کیا۔ فیکلٹی کی ترقی کیلئے رقم مختص کرائی گئی ۔ ایچ ای سی نے سالانہ تقریباً 1000 فیکلٹی ممبران کو پی ایچ ڈی کی تربیت کیلئے بیرون ملک کئی سال تک بھیجا۔ ہر ایک پی ایچ ڈی مکمل کر کے واپس آنے سے ایک سال قبل 100000$ کی تحقیقی گرانٹ کیلئے درخواست دے سکتا تھا۔ ایچ ای سی نے یہ بھی یقینی بنایا کہ جب نئے پی ایچ ڈی اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر واپس آئیں تو ان کے پاس فوراً نوکری ہو۔ سائنسی تحقیق پربہت زور دیا گیا، ایچ ای سی نےتجربہ گاہوں کو بہتر بنایا اور ان کیلئے جدید ترین آلات خریدے ۔ انہوں نے تمام فیکلٹی ممبران کیلئے جامعات میں متعدد بڑی تجربہ گاہیں بھی قائم کیں۔ HEC کے پاس بیرون ملک بھیجے جانے والوں کی واپسی کی شرح حیرت انگیزطور پر 97.5 فیصد تھی۔ ہیورڈ نے مزید کہا کہ ایچ ای سی کےقیام کے اس ابتدائی دور میں منصوبوں کے نفاذ کیلئےجو بھی حکمت عملیاں اپنائی گئیں کامیابیوں سے ہمکنار ہوئیں، جن میں فاصلاتی تعلیم کا اضافہ بھی شامل ہے جو بہت مقبول ہوا۔ سرکاری اور نجی دونوں اداروں میں طلباکا اندراج4 - 2003میں 183000 سے بڑھ کر7- 2006 میں 316278 ہو گیا، جو کہ 72 فیصد کا اضافہ ہے۔ اس عرصے کے دوران ایچ ای سی کی ترقیاتی فنڈنگ میں کثیر اضافہ ہوا جس نے سہولتوں کی بہتری کو اورمضبوط کیا۔ ڈیجیٹل لائبریری نے فیکلٹی ممبران، عملے اور طلباء کیلئے 20000 سے زائدتحقیقی جرائد، ای- کتب اور دیگر مواد تک رسائی فراہم کی۔ یہ ڈیجیٹل لائبریری بعد میں کئی دوسرے ممالک کیلئے ایک ماڈل بن گئی۔ اس طرح ایچ ای سی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فزیکل اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو بھی بہتر بنانے میں کامیاب رہا۔ کمیشن نے میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں اور ترقیوں کو یقینی بنانے کیلئے سخت محنت کی اور معیار کی ضمانت کیلئے بہت سے اداروں کا جائزہ لیا۔اس عرصے کے دوران، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد جو1997 میں 44تھی، بڑھ کر 2008 میں 122 ہو گئی، یعنی186 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر پانچ سال کی مختصر مدت میں درمیانی مدت کے ترقیاتی فریم ورک (MTDF) کے نفاذ کو متاثر کن حد تک پایہ تکمیل تک پہنچایا۔کامیابی کی ایک اہم وجہ ایچ ای سی کے معیار کو اسقدر بہتر بنانے کی سعی تھی کہ وہ بین الاقوامی معیار کےمد مقابل ہو جائے۔ بدقسمتی سے 2008-2003 کے دوران ہونے والی پیش رفت 2008 کے بعد برقرار نہ رہ سکی کیونکہ بعد میں آنے والی حکومتوں کی جانب سے اس اہم شعبے کیلئے تعاون کی کمی ہو گئی ۔ اس صورتحال کو ڈاکٹر فریڈ ہیورڈ نے یوں بیان کیا ہےکہ:" پاکستان حکومت اور ورلڈ بینک دونوں کی خاطر خواہ فنڈنگ کی بدولت بہترین معیار کی پانچ سالہ کامیابی کےبعد ، اگلی دہائی تک اعلیٰ تعلیم کا معیار گرتا چلا گیا۔ اس کی وجہ زیادہ تر حکومت کی مسلسل حمایت کی کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو اعلیٰ تعلیم کی اہمیت اور ضروریات کے بارے میں آگاہ کرنے اور متحرک کرنے میں ناکامی تھی۔ 2021میں اس وقت جب میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں ، پاکستان کی تعلیم ابھی تک اس زوال سے باہر نہیں آئی، جس نے ایسے منفی اقدامات کی بہت سی مثالیں قائم کی ہیں جو طویل مدتی ناکامی اور اعلیٰ تعلیم کے زوال کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایچ ای سی کوپارلیمنٹ کے اراکین کی تعلیمی اہلیت کا جائزہ لینے کیلئےاور انکی بی اے اور بی ایس سی کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے کیلئے نامزد کیاگیا ۔ایچ ای سی کے جائزے سے ظاہر ہوا کہ تقریباً 200 وفاقی اور صوبائی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ وزیر تعلیم کی بھی ڈگریاں جعلی تھیں۔ اس کے بعد ایچ ای سی پر یہ کہنے کیلئے بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر یہ تصدیق کردے کہ یہ ڈگریاں جائز ہیں۔ ایچ ای سی نے تعمیل کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ اعلیٰ تعلیم کی موجودہ صورت حال کتاب کے اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے: "جیسا کہ یہ اب مسلمہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا خطے میں اپنے ہم منصبوں سے کوئی موازنہ نہیں ہے، اور جب تک گہرائی سے اسکی اصلاح نہیں کی جائیگی تب تک بجائے مرکزی انجن بننے کے ، یہ اقتصادی ترقی کے تسلسل میں رکاوٹ بن سکتا ہے"۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں