چین کی مثالی ترقی

Monday / Jul 17 2023

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

(گزشہ سے پیوستہ)
تقریباً تین سال قبل جب مجھے چین کا اعلیٰ ترین سائنس ایوارڈ یعنی، بین الاقوامی سائنس و ٹیکنالوجی اشتراک ایوارڈ بیجنگ میں دی گریٹ پیپلز ہال میں ایک خصوصی تقریب میں عزت مآب، صدر شی جن پنگ نے دیا تھا اس موقع پر صدر چین نے 90منٹ طویل تقریر کی جس میں انہوں نے چین کی غیر معمولی ترقی کے اسباب کا احاطہ کیا۔ انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ کس طرح صنعتی ترقی اور جدت طرازی سے چلنے والی علمی معیشت کیلئے چین نے متعدد اقدامات کئے ہیں اور جدت طرازی مراکز، تحقیقی پارکس اور صنعتی شعبے کے قیام نے تعلیم، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے ۔ مثال کے طور پر، بیجنگ میں زہونگ گوانچن سائنس پارک، جسے چین کی سیلیکون ویلی بھی کہا جاتا ہے، تکنیکی جدت طرازی کا گڑھ بن گیا ہے، جو ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
چین نے زرعی شعبے میں پیداواری صلاحیت، اور تکنیکی ترقی کیلئے بھی کئی اقدامات کئے ہیں۔ چینی اکادمی برائے زرعی علوم اور چینی زرعی جامعہ جیسے نئے اداروں کے قیام نے زراعت میں تحقیق وترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایک قومی اور جامع زرعی تحقیقی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، جو فصلوں کی زیادہ پیداوار والی اقسام، موثر کاشتکاری کی تکنیکوں، اور جدید زرعی ٹیکنالوجیوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اسی طرح، CAU، چین کی اعلیٰ زرعی جامعات میں سے ایک ہے، جو شعبہ زراعت میں انتہائی ہنرمند افرادی قوت کی افزائش میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
چین نے انتہائی اہم صنعتوں میں جدت اور تکنیکی ترقی کو آگے بڑھانے کیلئے قومی سطح پر انجینئرنگ تحقیقی مراکز قائم کر دیئے ہیں۔ یہ مراکز ترقی یافتہ سامان سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور حیاتی ٹیکنالوجی میں مہارت کو پروان چڑھانے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور تجارتی سامان سازی میں معاونت کے لئے کئی تنظیمیں قومی سطح پر قائم کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر چین کی نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن وسیع سائنسی شعبوں میں بنیادی تحقیق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ادارہ محققین کو جدید تحقیق کرنے اور جدت طرازی کو فروغ دینے کیلئے مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے نے بائیو ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح چینی اکادمی برائے سائنس جس کا میں بھی اکیڈمیشین ہوں، نے سائنسی مہارت اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارہ قدرتی علوم میں ملک کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے کے طور پر، تحقیق اور پالیسی مشورہ فراہم کرتا ہے، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
چین نے نئے محققین اور ابتدائی کاروبار کیلئے سرکاری فنڈ، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے ایک معاون ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ اس تناظر میں، ٹارچ ہائی ٹیکنالوجی انڈسٹری ڈیولپمنٹ سینٹر، سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت، تکنیکی جدت طرازی اور کاروبار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ نظام ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے محققین کو قرضے دینے اور ابتدائی ڈھانچے کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور محققین کو اپنے خیالات کو ترقی دینے اور تجارتی سانچے میں ڈھالنے کے قابل بناتا ہے۔
مزید برآں، انٹرنیٹ پر مبنی پلیٹ فارمز اور ای کامرس کے عروج نے چین میں نجی اداروں کی ترقی کو آسان بنا دیا ہے۔ علی بابا اور ٹینسنٹ جیسی کمپنیوں نے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں انقلاب برپا کر دیا ہے بلکہ یہ عالمی دیو بن چکی ہیں۔ انکی کامیابی نے کاروباری سرگرمیوں میں ایک ایسی لہر دوڑا دی ہے، جس نے چین کے نجی شعبے کو انتہائی مثبت انداز میں متاثر کیا ہے۔ چین کی برقیات کی صنعت صارفین کیلئے برقی مصنوعات بشمول اسمارٹ فونز، ٹیلیویژن اور پرسنل کمپیوٹرز کی تیاری میں بہترین شہرت کی حامل ہو گئی ہے۔
چینی حکومت نے آئی ٹی صنعت کی ترقی کیلئے بھی پالیسیاں بنائی ہیں- ٹیکس مراعات، قرضوں کی سہولت اور انتظامی اصلاحات جیسے اقدامات نے جدت طرازی اور تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ حکومت نے صحت کی دیکھ بھال، مالیات اور سامان سازی جیسے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں، جس سے آئی ٹی مسائل کے حل اور خدمات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کی وسیع آبادی اور بڑھتے ہوئے متوسط طبقے نے آئی ٹی مصنوعات اور خدمات کیلئے ایک وسیع مقامی مارکیٹ تشکیل دی ہے۔ اس نے ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو چین میں اپنی موجودگی قائم کرنے پر راغب کیا ہے۔ علی بابا، ٹینسینٹ اور بیدو جیسی انٹرنیٹ کمپنیوں نے چین کی IT صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ای کامرس، سوشل میڈیا، آن لائن ادائیگی کے نظام اور سرچ انجن جیسی خدمات کے وسیع شعبوں میں پیش پیش ہیں۔
چین میں موٹر گاڑیوں کی صنعت ایک اور روشن مثال ہے۔ جس نے چین کو دنیا کے سب سے بڑے موٹر گاڑیوں کے بازار اور موٹر گاڑیوں کی صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔ صنعتی ترقی کو مختلف عوامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے، بشمول حکومتی پالیسیاں، غیر ملکی صنعتکاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے اور ملکی مانگ، مزید برآں، چین نے برقی گاڑیوں اور خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجیوں کی تیاری کے لئے تحقیق و ترقی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔ حکومت نے خود کار برقی گاڑیاں بنانے کے لئے موثر اہداف مقرر کئے ہیں اور انکی پیداوار میں مصروف مقامی کمپنیوں کو مالی مدد اور سازگار پالیسیاں فراہم کی ہیں اس نے چین کو ایسی موٹر گاڑیوں کی صنعت کاری اور جدت طرازی میں ایک عالمی رہنما کا مقام عطا کر دیا ہے۔
چین نے انجینئرنگ کی صنعت میں بھی نمایاں پیشرفت کی ہے، خاص طور پر تعمیرات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور بھاری مشینری کی تیاری جیسے شعبوں میں۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، جن میں تیز رفتار ریل نیٹ ورک، ہائی ویز، پل اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ ان منصوبوں نے نہ صرف انجینئرنگ خدمات کی بہت زیادہ مانگ پیدا کی ہے بلکہ گھریلو انجینئرنگ کمپنیوں کو اپنی مہارت دکھانے کے مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔
مندرجہ بالا تمام پیشرفت اسلئے ممکن ہوئی ہے کہ چین نے اقتصادی ترقی، جدت طرازی، اور ایک مضبوط علمی معیشت کی تشکیل کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کا ایک بہترین سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان میں ہم اگر ایسا معاشی معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ایک پر بصیرت، ایماندار اور تکنیکی طور پر قابل حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں