سنگاپور کی مثالی ترقی

Saturday / Aug 19 2023

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

پچھلے مضامین میں میں نے پاکستان کیلئے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کر کے آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا تھا جسکا مقصد ملک کو اعلیٰ و کثیر آمدن ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات میں ایک بڑا برآمد کنندہ بنانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے، میں نے چین اور کوریا جیسے ممالک کی ترقی کی مثالیں پیش کی تھیں کہ ان ممالک نے گزشتہ 5دہائیوں میں کس طرح کامیابی حاصل کی۔ ایک اور جنوب ایشیائی ملک جو 1965 ء میں اپنی آزادی کے بعد کرشماتی تبدیلی سے گزرا ہے وہ ایک چھوٹا سا ملک سنگاپور ہے جو کراچی کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی (تقریباً 50 لاکھ) پر مشتمل ہے اور قدرتی وسائل سے آراستہ نہیں ہے لیکن اسکی برآمدات آج 400ارب ڈالر سالانہ ہیں،جبکہ پاکستان کی برآمدات کئی سال سے تقریباً 32ارب ڈالر پر منجمد ہیں۔ آج سنگاپور کی دنیا میں انتہائی ترقی یافتہ معیشت ہے جہاں کی فی کس آمدنی برطانیہ یا جرمنی سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ حیران کن ترقی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی، اور کاروبار کیساتھ ساتھ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری پر بھرپور توجہ سے ممکن ہوئی ۔سنگاپور کی پر بصیرت حکومت نے اقتصادی ترقی کیلئے اچھی تعلیمیافتہ افرادی قوت کی اہمیت اور ملک میں اعلی ٰٹیکنالوجی کی ضرورت کومد نظر رکھتے ہوئے تعلیم میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور کے سالانہ بجٹ کا تقریباً 20فیصد تعلیم کیلئے مختص ہے۔ ملک کا تعلیمی نظام ایک سخت نصاب پر مشتمل ہے جس میں ریاضی، سائنس ،ٹیکنالوجی اور جدت طرازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی سنگاپور کی اقتصادی ترقی کی حکمت عملی کا سنگ بنیاد رہی ہے۔ سنگاپور کا مضبوط تعلیمی نظام اعلیٰ تکنیکی صنعت کیلئے درکار انتہائی ہنر مند افرادی قوت کی افزائش میں انتہائی کامیاب رہا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ کے مطابق سنگاپور اپنے تعلیمی نظام کے معیار کے حوالے سے دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ سنگاپور نے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے جو اہم اقدامات کیے، ان میں اساتذہ کی تربیت پر بہت زیادہ سرمایہ کاری شامل ہے۔ حکومت اساتذہ کو مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس میں تدریس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت بھی شامل ہے۔ حکومت اساتذہ کی قابلیت کو مزید بہتر کرنے اور جدید تقاضوں کیساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے مالی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
سنگاپور نے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ایک اور قدم اٹھایا ہے وہ اعلیٰ مرکزی نظام تعلیم کی ترقی ہے۔ یہ مرکزی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام طلباء کو انکے سماجی و اقتصادی پس منظر سے قطع نظر معیاری تعلیم حاصل ہو۔ سنگاپور کی حکومت نے ایک سخت نصاب تیار کرنے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی پر مشتمل ہے۔ یہ نصاب طلباء کو ان مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے جو انہیں 21ویں صدی کی معیشت میں کامیابی کیلئے درکار ہیں۔ حکومت نے اسکولوں میں تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی کو فروغ دینے کیلئے پروگرام بھی متعارف کرائے ہیں، جیسے کہ ’’کم پڑھیں، زیادہ سیکھیں‘‘ جو اساتذہ کو مقدار کی بجائے معیاری تدریس پر توجہ دینے کی ترغیب دیتا ہے۔

سنگاپور نے پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کیلئےطلباء کی افرادی قوت کی تیاری کیلئےبہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔VET نظام طالبعلموں کو عملی ہنر اور تجربہ فراہم کرتا ہے جو انہیں متعدد ملازمتوں کیلئے تیار کرتا ہے۔ حکومت نے کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی قائم کی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ VET پروگراموں میں سکھائی جانیوالی مہارتیں صنعت کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ اسکے علاوہ اعلیٰ تعلیم پر بھر پور توجہ بھی سنگاپور کی اولین ترجیح رہی ہے۔ آج سنگاپور کی کئی جامعات دنیا میں اعلیٰ درجےپر ہیں، جیسے کہ قومی جامعہ برائے سنگاپور اور نانیانگ ٹیکنالوجیکل جامعہ ،ان جامعات میں دنیا بھر کے اعلیٰ صلاحیتوں سے لیس اساتذہ ہیں ان میں طلباء کو عالمی معیار کی سہولتیں اور وسائل تک رسائی حاصل ہے۔ سنگاپور نےمختلف شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے پالیسیاں بھی متعارف کروائیں، جو ملک کی صنعتی ترقی کیلئے اہم ہیں۔ حکومت تحقیق اور ترقی کیلئے فنڈز فراہم کرتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جامعات ایسی جدید تحقیق کریں جو ملک کی صنعتی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہو۔ نیز جامعات کو صنعتی مسائل کو جدید ٹیکنالوجیوں کے ذریعے حل کرنے اور کاروباری صنعتوں کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔

سنگاپور کی اقتصادی کامیابی میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تحقیقی اداروں نے بائیو ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور صاف توانائی سمیت مستقبل کے شعبوں پر توجہ مرکوز کی۔ سب سے زیادہ قابل ذکر مثالوں میں سے ایک شہر بایوپولس ہے، جو حیاتیاتی علوم کیلئے تحقیق اور ترقی کا مرکز ہے۔ بایوپولس2003ء میں قائم کیا گیا تھا اور یہ کئی تحقیقی اداروں پر مشتمل ہے، بشمول سنگاپور بائیو امیجنگ کنسورشیم، جینوم انسٹیٹیوٹ ، سنگاپور انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر اینڈ سیل بائیولوجی، بائیوپولس دنیا بھر سے اعلیٰ ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا اور اس نے سنگاپور کو ایشیا میں بائیو ٹیک جدت طرازی کے مرکز کے طور پر ابھرنےمیں مدد کی۔

جدت طرازی اور تحقیق بھی سنگاپور کی اقتصادی کامیابی کے اہم محرک ہیں۔ سنگاپورحکومت نے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں نئے کاروباریوں کیلئے ٹیکس مراعات، تحقیق و صنعتی ترقی کیلئے رقوم، اور نئے کاروبار کیلئے انکیوبیٹرزشامل ہیں۔ حکومت نے متعدد جدت طرازی گروپ بھی قائم کیے ہیں جو محققین، کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو نئی ٹیکنالوجیوں میں تعاون فراہم کرتے ہیں اور ترقی کیلئے منظم کرتے ہیں۔ سنگاپور کا کاروبار ی ماحول بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ایک اہم عنصر ہے۔ دوسرے ممالک کیساتھ متعدد آزاد تجارتی معاہدے کیے گئے ہیں، جس سے غیر ملکی کمپنیوں کیلئے سنگاپور میں کاروبار کرنا اور دوسرے ممالک کی منڈیوں تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ سنگاپور نے متعدد اقتصادی زونز اور صنعتی پارکس بھی قائم کیے ہیں، جو کمپنیوں کو سنگاپور میں کام شروع کرنے کیلئے مراعات فراہم کرتے ہیں۔

غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری نے بھی سنگاپور کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تجارت اور ترقی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس کےمطابق، سنگاپور 2020 ء میں امریکہ اور چین کے بعد، دنیا میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا تیسرا سب سے بڑا وصول کنندہ ملک ہے۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری نے ملازمتیں پیدا کرنے، ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی ، جدت طرازی اور برآمدات کو بڑھانے میں کافی مدد کی ہے کیونکہ بہت سی غیر ملکی کمپنیوں نے ملک میں تحقیق و ترقی اور جدت طرازی کے مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ سنگاپور نے کم سے کم بدعنوانی، موثرانتظامی ڈھانچہ اور کم ٹیکس کی شرحوں کیساتھ ایک مستحکم کاروباری ماحول قائم کیا ہے۔ عالمی بینک کا کاروبار کرنے میں آسانی کا انڈیکس مسلسل سنگاپور کو کاروبار کرنے کیلئے دنیا کے سب سے آسان ممالک میں سے ایک کے طور پر درجہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، اقتصادی ترقی بورڈ کا گلوبل انویسٹر پروگرام، سنگاپور میں اپنا کاروبار قائم کرنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کام کے ویزوں کے حصول کیلئے ایک ون اسٹاپ حل فراہم کرتا ہے۔ ایک حقیقی ٹیکنالوجی پر مرکوز جمہوریت کو قائم کرنے کا وقت آگیا ہے، تاکہ ملک ایک مضبوط علم پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ سکے۔

 


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں