علم پر مبنی معیشت کا قیام

Thursday / Sep 28 2017

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

آج ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں اسکی معیشت کا دارومدار تعلیم ، سائنس ، ٹیکنالوجی،تحقیق وجدّت طرازی پر ہے ۔ جامعات اور تحقیقی مراکزقوم و ملّت میں اس تبدیلی کو لانے میں اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پرایک نیا مادّہ دریافت ہوا ہے جسکا نام گریفین graphene رکھا گیا ہے یہ اتنا مضبوط ہے کہ اس سے تیّار کردہ ایک باریک تا ر پر ہاتھی کو لٹکا سکتے ہیں یہ تار ہمارے ایک بال سے150گنا باریک ہے اوراسٹیل سے 200 گنامضبوط ہے ۔ آج اسکی صنعت اربوں ڈالر پر محیط ہے جبکہ صرف پانچ سال پہلے ہی اس مادّے کی دریافت ہوئی اور جامعہ مانچسٹر کے دو اساتذہ کو2010 میں اس دریافت پر نوبل انعام دیا گیا ۔ اسی طرح metamaterials کی دریافت نے ’ طلسمی چوغہ ‘پہن کر غائب ہو جانیوالی کہانیوں کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس مادّے میں روشنی کو اپنے گرد موڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے لہٰذا جو سامان بھی اس مادّے سے ڈھکا جاتا ہے وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتاہے۔ یہ مادّہ عسکری سامان کی تیّاری میںنہایت کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ خصوصاً ٹینکوں آبدوزوں وغیرہ کو نظروںسے اوجھل کرکے دشمن کے قریب لا کر حملہ کیا جا سکتا ہے ۔شعبہء جنیات بھی کافی برق رفتاری سے تحقیقی میدان میںقدم سے قدم ملا رہا ہے ۔ نمک روادار salt tolerantجین کی دریافت ہو چکی ہے جن سے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ غذائی فصلیں سمندری پانی سے اگانا ممکن ہو سکے گا۔ا نسانی جینوم میں 13 ارب سالموں کی ترتیب منٹوں میں بتا نیوالا آلہ ترقی کے مراحل میں ہے جو کہ طبّ کی دنیا میں مرض کی تشخیص اور ادویات کی تجویز میں نہایت اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ ایک نئے قسم کا پتھر سے تیّار کردہ کاغذ حا ل ہی میں بازار میں آ چکا ہے اور عام کا غذ کے مقابلے میں اس کے کئی فوائد ہیں، یہ آسانی سے نہیں پھٹتا اور اس پر سیاہی نہیں پھیلتی ہے۔بڑھاپے کو روکنے والے مرکّبات جن سے عمر کو بڑھایا جا سکتا ہے وہ بھی دریافت کر لئے گئے ہیں جنہیں جب بوڑھے چوہوں کودیا گیا تووہ جوان ہو گئے ۔ جسمانی خلیات ٹینکوں میں اگائے جا سکتے ہیں اور اسٹیم سیل کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہوتا جا رہا ہے کہ دل ،گردہ اوردوسرے اعضاء کامیابی سے پیوند کئے جا سکیں ۔اب بینائی سے محروم افراد اپنی زبان کے ذریعے دیکھ سکتا ہے۔ امریکہ میں بینائی کیلئے تجارتی بنیادوں پر یہ آلہ دستیاب ہے۔ غرض آج کی سا ئنس اس قسم کی بیش بہا حیرت انگیز دریافتوں اور ایجادات سے مزّین ہے۔ اور جو ممالک تحقیق اور جدّت طرازی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ ان ٹیکنالوجیوں سے اقتصادی طور پر بھر پور طریقے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آج دنیا دو اقسام کے ممالک میں تقسیم ہو چکی ہے وہ ممالک جو علم سے مالا مال ہیں اور تحقیق کے ذریعے نت نئی دریافتیں کر رہے ہیں اور ان کی بر آمدات سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں اور پاکستان جیسے غریب ممالک جنہوں نے علم و تحقیق کو نظر انداز کیا ہے اور وہ امداد کےلئے مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 157 اسلامی ممالک کا GDP ملا کر بھی اکیلے جاپان کے GDP سے کم ہے ۔ دنیا کی بیشتر اعلیٰ درجے کی جامعات نے اپنے ہی احاطے میں ٹیکنالوجی پارکس قائم کر لئے ہیں جو کہ جدید تصوّرات کو تحقیق اور تکنیک کی روشنی میں تجارتی مصنوعات کے روپ میں ڈھالتی ہیں۔ عالم اسلام کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تویہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ کسی بھی فرد کو آج تک ان ممالک میں کئے گئے کام کے بل بوتے پر سائنس کے میدان میں نوبل انعام حاصل نہیں ہواہے ۔ اسکے برعکس صرف جامعہ کیمبرج سے کل نوّے اساتذہ نوبل انعام حاصل کر چکے ہیںجن میں 29 طبعیات میں ، 26 طبّmedicine میں ،21 کیمیا میں، 9 معاشیات میں ، 2 ادب میں ، اور 2امن میں انعامات شامل ہیں۔ جامعہ کیمبرج کے ایک کالج یعنی ٹرینیٹی کالج سے 32 افراد کو نوبل انعام مل چکا ہے ۔اسکے علاوہ کنگز کالج کیمبر ج کے فریڈ سینگر کودو مرتبہ نوبل انعام مل چکا ہے ۔ اسی طرح کافمین فاؤنڈیشن کے ایک مطالعے، بعنوان ـ’Entrepreneurial Impact: The Role of MIT‘ کے تحت یہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے کہ MIT سے فارغ التحصیل طلبہ نے 11,000 کمپنیاں قائم کی ہیں اور ان میں تقریباً دس لاکھ سے زائد عمدہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ما لک افراد کو روزگار فراہم کیاجن کی سالانہ آمدنی , 2000 ارب سے بھی زائد ہے۔لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جامعہ کیمبرج اور MIT اپنے ممالک کی معیشت کی مضبو طی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر معاشی و اقتصادی اعتبار سے دیکھا جائے تو جیسے اوپر بیان کیا گیا ہے ،آج کی دنیا دو قسم کے ممالک میں بٹ گئی ہے۔ ایک وہ ممالک جو اعلیٰ تکنیکی مصنو عات کی بر آمدات کر رہے ہیں ، اور دوسرے وہ جو ان ممالک کی برآمدات پر انحصا ر کر رہے ہیں ۔ یہی ـ’علمی تقسیم ـ‘ ہے کہ جو اہل علم ہیں وہ عالمی معیشت پر راج کر رہے ۔ اور بے علم ممالک اپنی ضروریات اہل علم سے پوری کررہے ہیں ۔ اب یہ سوچنا ہمارا کام ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی راہ ترقی کی ضامن ہے ۔ وہ ایشیائی ممالک جہاں کو ئی قدرتی وسائل نہیں ہیںوہ بھی علم پر مبنی معیشت قائم کر سکتے ہیں ۔ ضرورت صرف دور اندیش حکومت کی ہے ۔اسکی ایک مثال سنگاپور ہے جس کی آبادی کراچی کی آبادی کی 1/4 ہے اسکی سالانہ برآمدات 450ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہیں جو کہ پاکستا ن کی برآمدات سے تقریباً15 گنا زیادہ ہیں ۔ سنگاپور کی فی کس آمدنی آج جرمنی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ آج سنگاپو ر کی نیشنل جامعہ کا شمار دنیا کی 25سب سے بہترین جامعات میں ہوتا ہے ۔ اس جامعہ کابجٹ 160 ارب ڈالرہے ۔جبکہ پاکستان کی تمام جامعات کا ملا کر بھی کل بجٹ صرف 100ارب روپے ہے ۔2003ء تا 2008ء اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے پانچ سالہ دور کے قیام کے دوران پاکستان نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں تیز ی سے ترقی کی ۔ اس دور میں ملک کی پانچ جامعات کا شمار دنیا کی اعلیٰ 300-500 جامعات کی صف میں آگیا تھا۔اس برق رفتار ترقی نے بھارتی حکومت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں . محکمہ منصوبہ بندی کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی پوری مدد کریں تاکہ جامعات کا معیار بلند کیا جا سکے اور مندرجہ ذیل نکات پر عمل کرکے ملک کو مضبوط علمی معیشت میں تبدیل کیا جاسکے ۔1۔تقریباً 2000 ذہین طلبہ کو سالانہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے دنیا کی اعلیٰ جامعات میں بھیجا جائے تاکہ علمی اعتبار سے قابل اساتذہ تیّار کئے جا سکیں۔ 2۔ ایک لاکھ امریکی ڈالر ’ تحقیقی گرانٹ پروگرام بحال کیا جائے جس کیلئے وطن لوٹنے سے ایک سال قبل ہی بیرونِ ملک مقیم طلبہ اس گرانٹ کیلئے درخواست کر سکیں یہ پروگرام 2006 ؁ء سے 2008ء تک رائج تھا۔ لیکن بعد میں اسے روک دیا گیا3 ۔وطن لوٹنے والے پی ایچ ڈی طلبہ کی جامعات میں تقرری کو انکی واپسی سے 12 ماہ پہلے ہی یقینی بنایا جائے ۔4 ۔ ٹینیور ٹریک (Tenure Track) نظام تقرری اور بی پی ایس نظام تقرری کی تنخواہوں کے فرق کو بحال کیاجائے اور ٹنیور ٹریک کی تنخواہوں کو تین گنا کیا جائے ،کیونکہ وقت کیساتھ یہ فرق بھی مندمل ہو گیا ہے ۔ 5۔ جامعات کی کارکردگی national ranking کی جانچ کرتے وقت جامعہ میں طلبہ اور پی ایچ ڈی اساتذہ کے تناسب کو 50% وزن دیا جائے ۔ 6 ۔ تحقیقی فنڈ پرو گرام کو سبک رفتار کیا جائے تاکہ کسی بھی پروجیکٹ کی منظوری یا غیر منظوری کا فیصلہ 90 دنوں کے اندر یقینی بنایا جاسکے۔7۔جامعات کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 10% تحقیق کیلئے رکھا جائےیعنی 78 ارب روپے کے بجٹ میں 7.8 ارب روپے صرف تحقیق کیلئے ہونے چاہئیں۔ 8۔ ان جامعات کی ترقیا تی فنڈنگ کو منجمد کردیا جائے جنہوں نے ابھی تک ٹنیور ٹریک پر نظام تقرری نہیں شروع کیا ہے اور اس با ت کو سختی سے جانچا جائے کہ تمام نئے فیکلٹی ممبران کی تقرریاں عارضی بنیادو ں پرکی جائیں اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مثبت جواب کے بغیر انہیں مستقل نہ کیا جائے۔ 9۔ تحقیقی آلات تک رسائی پروگرام کو مضبوط اور سہل بنایا جائے تاکہ کوئی بھی محقق ملک کی کسی بھی لیب میں آسانی سے اپنی تحقیقاتی ضروریات کے مطابق مفت میں رسائی حاصل کر سکے۔ 10۔ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کو بھی مضبوط و مستحکم بنا یا جائے تاکہ تمام ضروری جریدے اور تجزیاتی جز جیسے کہ کیمیائی اور حیاتیاتی جز ورسرچ انجنزSearch Engines مثال کے طور پر اسکالر ہرجامعہ کے ہر شعبے میں موجود ہوں ۔ 11۔ملک کی دس اعلیٰ جامعات اور دس تحقیقی مراکز کو عالمی معیارکی ــ’تحقیقی جامعات، اور ’بین الاقوامی تحقیقی مراکز‘ میں منتقل کیا جائے اس کیلئے مثاوی بین الاقوامی معیار کے فیکلٹی ممبران مقرّر کئے جائیں ا ور تحقیقاتی فنڈنگ میں بھی اضافہ کیا جائے۔12۔جامعات میں معیاری تسلّی پروگرام نافذ کیا جائے۔13۔ فیکلٹی ممبران کیلئے ’ کارکردگی نکات تفویض کئے جائیں اور ان کی تنخواہوں کادارومدار انکی کارکردگی پر ہو۔14۔ فیکلٹی ممبران کیلئے صنعت، زرعی اداروں اور سماجی تنظیمو ںمیں جز وقتی کا م کرنا لازمی قرار دیا جائے ۔جامعات کو قیمتی محلوں کی بجائے سماج کیلئے علم کا گہوارہ ہوناچاہئے ۔ پاکستان کی تقریباً دس کروڑ آبادی 20 سال سے کم عمر نو جوانوں پر مشتمل ہے جو کہ کل آبادی کا 50% سے زائد حصّہ ہیں ۔پاکستان کو ان نو جوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے ان کی تعلیم و تربیت پر وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ ملک کو ایک مضبوط علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کیاجاسکے۔موجودہ حکومت کو ’قومی تعلیمی ہنگامی صورتحال کا اعلان فوری طور پر کردینا چاہئے اور تعلیم کیلئے اپنی GDP کا کم ا ز کم7% بجٹ مختص کرناچاہئے جیساکہ گزشتہ حکومت نے اپنی تعلیمی پالیسی میں منظور کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں