حیاتیاتی سائنس میں اہم پیشرفت

Thursday / May 08 2014

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

سائنسی شعبہ جات میں رونما ہونے والی حیرت انگیز ترقیاں واقعی تہلکہ خیز ہیں اور یہ ترقیاں کسی بھی شعبے میں اس قدر نمایاں نہیں جتنی کہ حیاتیاتی سائنس میں ہے کیونکہ زندگی اور اس میں کارفرما دیگر کیمیائی عوامل کی سمجھ بوجھ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنسدان بھی اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ قدرت کس اچھوتے انداز سے مختلف عوامل سر انجام دیتی ہے اور پھر سائنسدان اسی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر بیماریوں سے نبردآزما ہونا اور زرعی پیداوار میں اضافے کے طریقے اخذ کرتے ہیں یہ عمل حیاتیاتی نقل (biomimicry)کہلاتا ہے۔ اس سلسلے میں چند حیرت انگیز مثالیں نظرقارئین ہیں۔جامعہ کونسٹانزجرمنی کے محققین کے مطابق پھلوں کی مکّھی کی حسِ بوکے ذریعے کینسر خلیات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور انہیں دیگر تندرست خلیات سے علیحدہ شناخت بھی کیا جا سکتا ہے دراصل عام تندرست خلیات اور کینسر زدہ خلیات میں سے خارج ہونے والی بو میں کافی واضح فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ان دونوں اقسام کے خلیات میں رونما ہونے والی مختلف حرکات کی بنا پر ہوتا ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے ان مکّھیوں کے اینٹینا کے موصولاتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اس طرح کہ کسی بھی کینسر خلئے کی موجودگی میں یہ اینٹینے مخصوص انداز سے چمکتے ہیں۔ Samuel Achilefu جامعہ واشنگٹن، امریکہ اور ان کے ساتھیوں نے کینسر خلیات کی شناخت پر جرّاحی کے ذریعے ان خلیات کو نکالنے کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لئے ایک عینک نما آلہ دریافت کیا ہے جو کہ آپریشن کے دوران سرطانی خلیات کی نشاندہی میں مدد کرتا ہے اس کیلئےخلیات میں داخل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سرطانی خلیات الگ سے چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس آلے کا استعمال نہایت ہی آسان ہے اور جرّاحی کے دوران ہاتھ بھی خالی رہتے ہیں۔ سفید روشنی اور انفرا ریڈ روشنی کی بیک وقت موجودگی میں اس آلے سے دیکھا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ویڈیو اور گرافک تصاویر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ طبّی آلات کی دریافتوں کی صف میں ایک اور دلچسپ دریافت 3D چھپائی ہے۔3D چھپائی کافی آلات کی تیّاری میں استعمال ہو رہی ہے۔ خصوصاً گزشتہ تین سالوں میں اس مد میں ہونے والے کام کا تخمینہ تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ سالانہ 30% کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔چین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 500 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10 تحقیقاتی ادارے قائم کرے گا جو کہ 3D چھپائی میں مہارت حاصل کریں گے۔3D چھپائی میں کسی بھی آلے یا چیز جس کی بھی چھپائی کرنی ہے اس کا 3D خاکہ پہلے کمپیوٹر پر تیّار کیا جاتا ہے پھر کمپیوٹر کو مشین سے منسلک کر دیا جاتا ہے جو کہ اس3D خاکے کے مطابق دھات یا پلاسٹک کے پرزوں کو تشکیل دیتا ہے۔3D پرنٹر اب مختلف اقسام کی چیزوں کی چھپائی کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جن میں مشینی پرزہ جات سے لے کر تعمیراتی سامان تک اور کپڑا سازی سے لے کر آگ بجھانے کے آلات تک شامل ہیں۔ 3D چھپائی صنعتوں کیلئے نہایت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے جیسا کہ بائیو میڈیکل آلات کی تیّاری۔ 2013ء میں چینی سائنسدان اس چھپائی کے ذریعے جگر، گردے اور کان وغیرہ زندہ خلیات سے تیّار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جامعہ Hangzhou Dianzi کے محققین 3D بائیو پرنٹر ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ ایک چھوٹا سا جگراور کان کی ہڈّی زندہ خلیات پر3D پرنٹ کر سکتاہے۔ گزشتہ سال جامعہ Hasselt کے سائنسدان ایک بیلجین عورت کے لئے 3D چھپائی کے ذریعے اس کی ٹوٹی ہوئی جبڑے کی ہڈّی بنا کے تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے لگنے کے بعد اب وہ بات کر سکتی ہے، کھانا کھا سکتی ہے اور صحیح طرح سے سانس بھی لے سکتی ہے۔مارچ 2014ء میں سوان سی میں ایک موٹر سائیکل سوار کا چہرہ حادثے کی وجہ سے بالکل مسخ ہو گیا تھا اسے بھی 3D چھپائی کے ذریعے دوسرا چہرہ لگا دیا گیا۔ 3D چھپائی کے ذریعے امریکہ میں ایک 14ماہ کے بچّے کی دل کے آپریشن کے دوران جان بچا لی گئی۔بچّے کے دل میں چار نقائص تھے اور ڈاکٹروں کو فوری طور پر ماڈل دل کی ضرورت تھی۔ جامعہ Louisville کےJ.B Speed School of Engineering نے اس آپریشن کا پلان بنایا اور کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔3D چھپائی انسانی بیرونی ڈھانچے 43(exoskeleton) میں بھی استعمال ہو رہی ہے جس نے ایک مفلوج خاتون کو چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا۔بیرونی ڈھانچے ،اکثر سائنسی تخیّلاتی فلموں میں دکھائے جاتے ہیں بطور میکانیکی لباس (mechanical suits) جن میں غیر مرئی طاقت ہوتی ہے جو پہننے والے کو اضافی طاقت دیتا ہے۔یہ سب آج حقیقت بن چکا ہے۔ امریکی دفاعی ادارہ DARPA اور Lockheed نے سپاہیوں کے لئے ایسے ہی بیرونی ڈھانچے تیّار کئے ہیں تاکہ ان کی طاقت کو دوبالا کیا جا سکے اور وہ پھرتی سے وزنی سامان اٹھا کر اور چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکیں اور دیگر کام بغیر تھکاوٹ کے کر سکیں۔ حیاتیاتی سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے میں 2001ء میں پاکستان نے بھی اسی قسم کی تحقیق کا شاندار افتتاح کیا تھا۔ قومی کمیشن برائے بائیو ٹیکنالوجی اور قومی کمیشن برائے نینوٹیکنالوجی قائم کئے گئے تھے اور کثیر تعداد میں پروجیکٹ شروع کئے گئے تھے جو کہ کافی مثبت انداز میں ہماری زراعت، صنعت اور دفاع پر اثر انداز ہوتے۔ جرمنی، سوئیڈن، آسٹریا، فرانس ، اٹلی اور چین کے اشتراک سے غیر ملکی انجینئرنگ جامعات کا پاکستان میں نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ان جامعات کے قیام سے پاکستانی طلبہ غیر ملکی جامعات سے اپنے ہی ملک میں تعلیم حاصل کر کے غیر ملکی ڈگریاں حاصل کرسکتے تھے۔ اکتوبر2008ء میں MS اور PhD کی سطح پر تربیت کا افتتاح ہونے ہی والا تھا اور تمام ضروری انتظامات کر لئے گئے تھے کہ یہ افتاد ہوئی کہ پی پی پی کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور آتے ہی مئی 2008ء میں تمام پروجیکٹ اور جامعات کے قیام کے عمل کو رکوا دیا کیونکہ ان کے لئے تعلیم کے فروغ سے زیادہ دوسری چیزیں زیادہ اہم تھیں۔ یہ پاکستان کو بہت برا دھچکہ تھا اس سے ہمارے غیر ملکی شراکت دار بھی شدید برہم ہوئے ۔اس طرح ترقی کرنے کا ایک شاندار موقع ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا۔ بدقسمتی سے حکومت کا سائنس اور تعلیم سے غیر دوستانہ روّیہ 2008ء سے 2013ء تک اسی طرح برقرار رہا۔ قومی کمیشن برائے بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی کافی عمدگی سے کام کر رہے تھے انہیں فوری طور پر بند کرکے ان کے پروجیکٹ منجمد کرادیئے گئے ۔دو سو سے زائد جعلی ڈگریوں کے حامل پارلیمانی اراکین اسمبلی ایچ ای سی کو ختم کرنے پر تل گئے اور اسے تباہ کرنے کی ہر ممکن کوششیں بھی کر ڈالیں۔ ایچ ای سی کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجے گئے طلبہ کے وظائف اچانک بند کردیئے گئے ، ایچ ای سی کے بجٹ اور اختیارات میں خاطر خواہ کٹوتی کر دی گئی حتیٰ کہ ایچ ای سی کی تحلیل کا باضابطہ نوٹس بھی جاری کر دیا گیا لیکن ان کے فیصلے کے خلاف میری پٹیشن دائر کرنے پر سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور اسے ٹوٹنے سے بچا لیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور کے مطابق وعدہ کیا تھا کہ تعلیم کو اوّلین ترجیح دی جائیگی اور GDP کا کم از کم 4% تعلیم پر خرچ کیا جائیگا ۔میرا نواز شریف صاحب سے سوال یہ ہے کہ قوم سے کیا گیا تعلیم پر سرمایہ کاری کرنے کا اپنا وعدہ وہ کب پورا کریں گے؟


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں