توانائی کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی

Friday / Dec 16 2016

Newspaper : The Daily Jung (اردو)

توانائی کے میدان میں نہایت برق رفتاری سے حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہور ہی ہیں۔ اور جلد ہی ہم اس روایتی توانائی کی بجائے صاف اور قابل تجدید توانائی استعمال کر رہے ہونگے۔ قابل تجدید توانائی کی بہت کم قیمت نے توانائی کے شعبے میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ جنوبی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک نے قابل تجدید توانائی کے ذریعے2016ء میں لگاتار 76 دنوں تک 100% توانائی کی ضروریات پوری کریں۔ بہت سے ممالک اس جانب تیزی سے آرہے ہیں اور تقریباً بیس سال کے اند ر اندر تیل کی حیثیت بطور ذریعہء توانائی نہایت کم ہو جائیگی اور اسکی جگہ حیرت انگیز اورکم قیمت قابل تجدید توانائی کےذرائع لے لیں گے۔ کچھ ممالک میں سمندری کناروں پر ہوائی چکیاں بطور توانائی استعمال کی جارہی ہیں ،اسی طرح شمسی فارمز وجود میں آگئے ہیں جہاں آئینوں سے منعکس کردہ شمسی روشنی حرارت کی صورت میں یہ توانائی نمک کو گرم کر کے پگھلانے اور اس سے برقی چکیوںکو چلانے کے کا م آتی ہے ۔ اسکے علاوہ کفایتی قیمت پر شعائی توانائی کوشمسی خلئیوںکے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر حاصل کیا جا رہا ہے ۔ جنکو سولار کے نام سے چینی کمپنی نے شمسی توانائی سے چلنے والاسب سے کم قیمت پر ایک بہت بڑے شمسی فار م قائم کرنے کا عالمی ریکارڈ قا ئم کیا ہے۔ اس کا ٹینڈر حال ہی میں ابو ظہبی میں قائم ہونے والے شمسی پارک کیلئے منظور کیا گیا ہے جس میں شمسی توانائی کے سب سے کم نرخ درج کرائے گئے یعنی 0.0242 ڈالر (2.44 روپے )فی کلو واٹ گھنٹہ ۔اس سے پہلے سب سے کم قیمت نرخ اگست میں چلی میں پیش کئے گئے تھے جو کہ 0.029 ڈالر 2.9 روپے) فی کلو واٹ گھنٹہ تھے۔ جنکو سولار کے اسقدر کم نرخ کے باوجو د سالانہ 7% بچت کی توقع ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں شمسی توانائی کے نرخ میں 80% تک کمی کے باعث شعبہ توانائی میں کافی تبدیلی آگئی ہے اور تیل و گیس کو شمسی توانائی کے مقابلے میں سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ افسوس ابھی حال ہی میں چین کی مدد سے پاکستان میں چولستان کے صحراء میں قائم کیا جانے والا شمسی توانائی گھر پانچ گنا زائد قیمت پر قائم کیا گیا ہے ۔نیب کو چاہئے کہ اس معاملے کی پوری تفتیش کرے کہ اسکا کون ذمہ دار ہے۔ شمسی خلئےسورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرکے بجلی بناتے ہیں۔ سورج کی یہ توانائی فوٹانز کی شکل میں ہو تی ہے۔ فوٹانزشمسی خلئیوں کے الیکٹران کو ایک توانائی کی سطح سے اگلی اونچی توانائی کی سطح تک متحرک کرتے ہیں جو کہ مواد میں الیکٹران کے بہاؤ کا سبب بنتی ہے۔ یہ جو برقی رو حاصل ہو تی ہے وہ براہ راست کرنٹ direct current (DC) ) کہلاتی ہے۔جو کہ بلب روشن کرنے اور دیگر بجلی کے آلات مثلاً پنکھے وغیرہ چلانے کے کام آسکتی ہے۔تجدیدی توانائی کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت مسلسل تحقیقی عمل کی وجہ سے ہے۔ مثال کے طور پر جامعہ جنوبی کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے ایسے مخصوص شمسی خلئے تیار کئے ہیں جو کہ ایک محلول میں گھول دیئے جاتے ہیں جس سے شیشے اور پلاسٹک کی سطح پر پینٹ یا چھپائی کی جا سکتی ہے۔ یہ شمسی خلئے اسقدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی نظر ان تک نہیں پہنچ سکتی ۔ صرف چار نینومیٹر جتنے 250 ارب خلئیے ہوں تو سوئی کے ناکے کو پر کر سکیں گے۔ چونکہ یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں اسلئے انہیں چھپائی کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس طرح بڑے پیمانے پر پیداوار کم داموں میں ممکن ہو سکے گی ۔ توانائی کے میدان میں اس تیز پیش رفت کی بدولت وہ دن دور نہیں جب ہم شمسی توانائی پینلوںکے بجائے شمسی توانائی کے تابع دروازے اور کھڑکیاں استعمال کر رہے ہوں گے۔ تجارتی بنیادوں پر موجود شمسی خلئیوں کی کار کردگی 14-18%. ہے جبکہ نئے multi-junction شمسی خلئیوں کی کارکردگی 38%-42% ہے لیکن ان کی پیداوار زیادہ مشکل اور مہنگی ہے۔ شمسی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اور پیش رفت یہ ہو ئی ہے کہ شمسی خلئیوں کو ایک معیاری انک جیٹ پرنٹر سے بھی چھاپا جا سکتا ہے ۔ ابتداء میں ان خلئیوں کی کارکردگی 5% تھی جوکہ مزید تحقیق کے بعد بڑھ کر 20% ہو گئی ہے۔ یہ خلئے "CIGS" شمسی خلئیے کہلاتے ہیں کیونکہ یہ تانبہ، انڈیم ، گیلیم اور سیلینیم پر مشتمل ہو تے ہیں۔انکے انتہائی باریک خلئیوں کی سطح کو چھتوں کی تعمیر کے دوران لگایا جا سکتا ہے جو کہ سورج کی روشنی کو جزب کر کے گھروں کیلئے ان سے حرارت اور بجلی فراہم کر سکیں۔ شمسی خلئیوں کی ٹیکنالوجی بڑی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بوئنگ کمپنی کے ایک ذیلی ادارے اسپیکٹرو لیب نے ایسے شمسی خلئیے تیار کئے ہیں جن کی تبدیلی کار کردگی 39.2% ہے جو کہ موجودہ تجارتی بنیادوں پر استعمال کئے جانے والے خلئیوں کی توانائی تبدیلی کی کارکردگی سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا کے تقریباً 60% مصنوعی سیاروں کو اسپیکٹرو لیب ہی کے بنائے ہوئے شمسی خلیوںسے توانائی پہنچائی جاتی ہے۔ اس شعبے کی حالیہ پیش رفت ’’کوانٹم ڈاٹ ‘‘ شمسی خلیوں کی دریافت ہے۔ یہ خلئے کم قیمت اور بہتر کارکردگی کے حامل ہیں ۔یہ کوانٹم ڈاٹ نیم موصل کے ننھے ذرات پر مشتمل ہو تے ہیں۔ انھیں بآسانی مختلف سطحوں پر پینٹ کیا جا سکتا ہے۔ اور کسی بھی قسم کے پیچیدہ اور مہنگے شمسی پینل کی تنصیب کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسٹینفورڈ کے محققین نے نامیاتی مواد کو ان ذرات کی تشکیل کیلئے استعمال کیا ہے لیکن اب جامعہ ٹو رنٹو کے سائنسدانوں نے غیر نامیاتی مواد سے اس سے زیادہ بہتر کارکردگی کے کوانٹم ڈاٹس تیار کر لئے ہیں۔ جامعہ ٹورنٹو کے سائینسدانوں نے پہلے colloidal quantum dot شمسی خلئے بنالئے ہیں جو تصدیق کے ساتھ 10% بہتر کارکردگی کے ساتھ بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔


.یہ مصنف ایچ ای سی کے سابق صدر اور او ایس سی ممالک (سائنس) کے سائنس دانوں کے نیٹ ورک آفس کے صدر ہیں